.

حوثیوں نے 299 مساجد کو تخریب کا نشانہ بنایا : سرکاری رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایک سرکاری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 2015 کے اوائل میں قانونی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے اب تک حوثی ملیشیاؤں نے ملک بھر میں 299 مساجد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی "سبا" کے مطابق "علمائے یمن رابطہ پروگرام" کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مختلف صوبوں میں 29 مساجد کو دھماکوں اور گولہ باری کے ذریعے مکمل طور پر شہید کر دیا گیا اور 24 مساجد کو شدید نقصان پہنچایا گیا اور ان کی دیواروں کے کچھ حصے منہدم بھی ہو گئے جب کہ حوثی ملیشیاؤں نے 146 مساجد کو "عسکری بیرکوں" میں تبدیل کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے مساجد کی زمینی منزلوں کو بھاری اور درمیانے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ڈپو میں بدل ڈالا ، مساجد سے متصل کھلی جگہاؤں کو تربیتی مقامات اور مساجد کے صحنوں کو "حُقّے بازی" اور دیگر امور کے لیے خصوصی مقام بنا دیا۔

اس دوران ملیشیاؤں کے عناصر نے غریب عوام میں تقسیم کے لیے مسجد میں رکھے جانے والے غذائی اشیاء کے ذخیروں اور مسجد کے مائیکروفونوں اور دیگر آلات کو بھی لوٹ لیا۔

حوثی ملیشیاؤں نے گزشتہ برس جون میں حجہ صوبے کی ایک مسجد کو "قات" )کی بُوٹی) کھانے کے لیے خصوصی مقام میں بدل دیا تھا۔ سوشل میڈیا پر زیر گردش ایک تصویر میں حوثیوں کو حجہ صوبے کی ایک سب سے بڑی مسجد "الحورہ" کے تمام ستونوں پر حوثی جماعت کے متوفی رہ سربراہ بدر الدین حوثی کی درجنوں تصاویر لگاتے ہوئے اور مسجد کا تقدس پامال کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

جولائی میں حوثی ملیشیا نے عمران صوبے میں ایک مسجد پر دھاوا بولا اور اس میں موجود تمام کتب کو آگ لگا دی۔ اس کے علاوہ حوثیوں نے اپنے زیر قبضہ صوبوں کی درجنوں مساجد پر دھاوا بول کر وہاں حوثی خطیبوں کو مقرر کر دیا۔

بات یہاں تک ہی نہیں رُکی بلکہ باغیوں نے مساجد کے اصل خطیبوں کو اغوا کیا اور انہیں قید خانوں میں ڈال دیا۔

حوثیوں کے نزدیک علاقائی پھیلاؤ سے قبل اولین ترجیح ان مساجد کو نشانہ بنانا ہے جو حوثیوں کے عقائد اور نظریات کے خلاف بات لوگوں کے کانوں تک پہنچاتی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد قرآن و حدیث سے متعلق ہر چیز کو مٹا دینا ہے تاکہ ایرانی خمینیت کے افکار کو پھیلایا جا سکے۔