سعودی عرب میں ٹرمپ کی سرمایہ کاری کی کہانی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں اقتصادی اصلاحات نے عالمی تاجروں اور کمپنیوں کے مملکت کی منڈی میں داخل ہونے کی راہیں کھول دی ہیں۔ اس سلسلے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سامنے بہت سے سیکٹروں میں سرمایہ کاری کے عظیم مواقع پیدا ہو گئے ہیں۔

ایسا نظر آتا ہے کہ سابق امریکی تاجر اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اُن لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے گزشتہ دو سالوں کے دوران مزید کمپنیاں کھول کر اس دوڑ میں شریک ہونے کے لیے تیزی دکھائی۔

مالیاتی گوشواروں کے مطابق کاروباری سیکٹر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 144 کمپنیاں اور تجارتی ادارے ہیں جو کینیڈا سے جنوبی امریکا تک ، یورپ ، مشرق وسطی اور ایشیا میں 25 ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں۔

اگست 2015 میں ٹرمپ نے ہوٹل سیکٹر سے متعلق سعودی عرب میں 8 کمپنیاں قائم کیں۔ واشنگٹن پوسٹ اخبار کے مطابق یہ پیش رفت ٹرمپ کی جانب سے امریکی صدارت کے لیے خود کو نامزد کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد سامنے آئی۔

یاد رہے کہ ٹرمپ گزشتہ ہفتے اپنی کمپنی " ٹرمپ آرگنائزیشن" سے مستعفی ہو گئے تھے۔ اب ان کے دونوں بیٹے کمپنی کے انتظامی امور کو سنبھالیں گے۔

ٹرمپ کے اپنی تمام کمپنیوں سے مستعفی ہونے کے اعلان سے قبل ٹرمپ گروپ کے قانونی مشیر ایلن گارٹن نے بتایا کہ امریکی صدر نے بہت سے اہم اقدامات کیے ہیں جن میں دنیا بھر میں بہت سی کمپنیوں کی بندش بھی شامل ہے تاکہ مفادات کے تصادم سے بچا جاسکے۔ ان میں سعودی عرب میں ممکنہ مشترکہ تجارتی منصوبے سے متعلق ذیلی منصوبے بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے مالیاتی گوشواروں میں مملکت میں خطیر سرمایہ کاری کا انکشاف ہوا جو ہوٹل سیکٹر میں کئی مشاورتی کمپنیوں کی صورت میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں