ڈونلڈ ٹرمپ داعش کے خلاف جنگ کو ترجیح دے رہے ہیں : شامی صدر
شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ داعش کی قیادت میں جنگجوؤں کے خلاف جنگ کو ترجیح دے رہے ہیں لیکن اس حوالے سے فوری طور پر کسی عملی قدم کی توقع رکھنا قبل از وقت ہوگا۔
شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق صدر بشارالاسد بیلجیئن صحافیوں کے ایک گروپ سے منگل کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ '' ٹرمپ کا موقف امید افزا ہے۔ میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ حوصلہ افزا ہے لیکن ہمیں انتظار کرنا ہوگا اور کسی عملی اقدام کی توقع کرنا قبل از وقت ہوگا''۔
انھوں نے کہا کہ امریکا اور روس کے درمیان جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں روابط اور تعاون بڑھ رہا ہے اور اس کے مثبت مضمرات ہوں گے۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ان شامی باغیوں کے لیے امریکا کی امداد کو ختم کرسکتے ہیں جو بشارالاسد کی حکومت کے خلاف لڑرہے ہیں اور وہ شام میں داعش کے خلاف جنگ میں روس کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔
بشارالاسد کے طاقتور اتحادی روس نے گذشتہ ماہ یہ اطلاع دی تھی کہ صدر ولادی میر پوتین اور ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران شام میں داعش کے خلاف جنگ میں ایک حقیقی رابطہ کاری کے قیام کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے داعش کو شکست سے دوچار کرنا اپنی صدارت کا اہم مقصد قرار دیا ہے اور انھوں نے اگلے روز ایک انتظامی حکم پر دستخط کیے ہیں جس میں پینٹاگان ،جائنٹ چیفس آف اسٹاف اور دوسری ایجنسیوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آیندہ تیس روز میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے منصوبہ پیش کریں۔