شام : درعا پر روسی طیاروں کی شدید ترین بم باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کے جنگی طیاروں نے منگل کے روز شام کے شہر درعا میں اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقوں کو شدید بم باری کا نشانہ بنایا۔ یہ بات "العربیہ" نیوز چینل نے شامی اپوزیشن کے ذرائع اور عینی شاہدین کے حوالے سے بدھ کے روز بتائی۔

روسی بم باری کا سلسلہ پیر کے روز شروع ہوا جو روس کی ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل شام میں مداخلت کے بعد اس علاقے میں شدید ترین بم باری ہے۔ اپوزیشن گروپوں نے اتوار کے روز درعا کے علاقے المنشیہ پر حملہ کیا تھا جس کا مقصد اردن کے ساتھ سرحد پر تزویراتی گزرگاہ پر شامی فوج کے کنٹرول کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانا بتایا گیا۔

شامی فوج کے اعلان کے مطابق اپوزیشن گروپ اپنی کوشش میں ناکام ہو گئے اور اسے بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

اپوزیشن ذرائع نے بتایا ہے کہ منگل کے روز روسی طیاروں نے کم از کم 30 فضائی حملے کیے۔ اپوزیشن کے ایک سینئر کمانڈر ابراہیم عبداللہ نے اس امر کی تصدیق کی کہ جب سرکاری فوج بعض علاقوں پر کنٹرول کھونے لگی تو روسی طیاروں نے اپنی کارروائی شروع کر دی۔

اپوزیشن کی جانب سے درعا میں سرکاری فوج کے زیر کنٹرول حصوں پر مارٹر گولے داغے جانے کے بعد لڑائی کا سلسلہ شہر کے دیگر علاقوں تک پھیل گیا۔ مقامی آبادی کے مطابق سرکاری فوج نے اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقوں پر زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل داغے۔

شامی جیشِ حُر کے جنگجو جنوبی صوبے درعا کے کم از کم نصف حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ تاہم درعا شہر کے مغرب میں گولان کے بالائی علاقوں میں داعش تنظیم کے زیر انتظام جماعتیں بھی موجود ہیں۔

ادھر امدادی کارکنوں نے انکشاف کیا ہے کہ روسی طیاروں نے درعا میں ایک میدانی ہسپتال کو بھی نشانہ بنایا۔ اس دوران سرحدی علاقے میں ایک ہی خاندان کے کم از کم 7 افراد جاں بحق ہو گئے۔ شام کا تنازع شروع ہونے کے بعد ابتدائی دنوں میں ہی علاقے کی زیادہ تر آبادی فرار ہو گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں