داعش کے چنگل سے بچ نکلنے والے کرد فوج نے یرغمال بنا لیے
موصل کے باشندے دہری مصیبت کا شکار: ہیومن رائٹس واچ
عراق کے شمالی شہر موصل میں دہشت گرد تنظیم داعش کو نکالنے کے لیے جاری فوجی آپریشن کے نتیجے میں مقامی آبادی دہری مصیبت کا شکار ہے۔ اطلاعات کے مطابق موصل میں داعش کے چنگل سے فرار ہونے والے بچوں اور بڑی عمر کے مردوں کو کرد فوج نے یرغمال بنانا شروع کردیا ہے۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ موصل میں جاری لڑائی کے دوران بڑی تعداد میں شہری وہاں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان میں بہت سے بچوں اور جوانوں کو کرد فورسز نے یرغمال بنا لیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب عراق کے صوبہ کردستان کی فوج پر دوسرے شہروں سے آنے والے شہریوں کو گرفتار کرنے کا الزام سامنے آیا ہے۔ سنہ 2014ء میں اربیل اور دوسرے شہروں میں قائم پانچ پناہ گزین کیمپوں سے 900 آئے نو سو بچوں اور مردوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
کرد فورسز کے ہاں گرفتار کیے گئے شہریوں میں سے بعض کو 14 ماہ کے لیے پابند سلاسل کردیا جاتا ہے اور اس دوران انہیں اپنے لواحقین سے رابطے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔
-
موصل: چھینے گئے علاقوں میں داعش کے خفیہ سیل سرگرم
رات کی تاریکی میں لوٹ مار اور قتل وغارت گری کا بازار گرم
مشرق وسطی -
عراق : داعش کے ہاتھوں 1200 یزیدی اغوا ہو کر موصل منتقل
عراق کے شمالی صوبے نینوی میں ضلع سنجار کے ڈپٹی کمشنر محما خليل نے بتایا ہے کہ داعش ...
مشرق وسطی -
داعش کی بارودی سرنگ نے کرد خاتون صحافی کی جان لے لی
شفاء کردی موصل لڑائی کی کوریج کے دوران ہلاک ہونے والی دوسری صحافی ہیں
مشرق وسطی