منبج : شامی حکومت اور روس کی "ڈیموکریٹک فورسز" کے لیے کُمک
امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے جمعے کی شام اعلان کیا ہے کہ شامی حکومت اور اس کے حلیف روس کی جانب سے شمالی شام کے شہر منبج کے لیے "انسانی قافلے" بھیجے جا رہے ہیں۔ جن میں بکتر بند گاڑیاں بھی شامل ہیں۔
منبج شہر اس وقت امریکی حمایت یافتہ (کُرد) ڈیموکریٹک سیریئن فورسز کے زیر کنٹرول ہے۔
امریکی وزارت دفاع کے ترجمان جیف ڈیوس نے دمشق حکومت اور ماسکو کی جانب سے اس "اقدام" پر تبصرے کو مسترد کردیا تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ اس وقت تمام فریق شمالی شام میں داعش تنظیم کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے کوشش کریں۔
منبج شہر شام اور ترکی کی مشترکہ سرحد سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے اگست 2016 میں منبج شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس پیش رفت میں ڈیموکریٹک فورسز کو امریکی عسکری مشیروں کی سپورٹ اور داعش کے خلاف واشنگٹن کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کے طیاروں کی معاونت حاصل رہی۔
انقرہ حکومت نے جمعرات کے روز دھمکی دی تھی کہ اگر سیریئن ڈیموکریٹک فورسز میں شامل کُرد جنگجوؤں کا منبج شہر سے انخلاء عمل میں نہ آیا تو انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔
-
شام کے حوالے سے آستانہ مذاکرات کا دوسرا دور 14 مارچ کو ہوگا
شام میں دیر پا قیام امن اور انتقال اقتدار کے حوالے سے اقوام متحدہ کی زیرنگرانی ...
بين الاقوامى -
’شام وعراق میں 12 سے15 ہزار دہشت گرد موجود ہیں‘
شام اور عراق میں دہشت گردی کے خلاف سرگرم عالمی اتحاد کی طرف سے کہا گیا ہے کہ دونوں ...
مشرق وسطی -
چین اور روس نے شام پر نئی پابندیوں کے لیے قرارداد ویٹو کردی
روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال ...
مشرق وسطی