شام: الرقہ سے داعش کمانڈروں کا خاندان سمیت اجتماعی فرار
شام میں داعش کے ایک اہم ترین گڑھ الرقہ شہر کے گرد گھیرا تنگ ہونے کے ساتھ ہی تنظیم کے درجنوں غیر ملکی کمانڈروں اور ارکان اپنے خاندانوں سمیت الرقہ سے فرار ہو کر دیگر علاقوں کی جانب چلے گئے ہیں جہاں پر داعش کا کنٹرول ہے۔ شام میں انسانی حقوق کے مانیٹرنگ گروپ کے مطابق یہ پیش رفت سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کی جانب سے جاری عسکری آپریشن کے بعد سامنے آئی ہے جس کے دوران ان فورسز نے شہر کا محاصرہ کر لیا ہے۔
صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران داعش کے تقریبا 80 غیر ملکی کمانڈر اور ارکان اپنے گھر والوں کو لے کر الرقہ سے فرار ہوئے۔
شامی مانیٹرنگ گروپ نے بتایا ہے کہ فرار ہونے والے افراد کشتیوں کے ذریعے دریائے فرات کے جنوبی حصے کی جانب منتقل ہو گئے جس کے بعد انہوں نے الرقہ شہر کے جنوب میں نواحی علاقے کا رخ کیا۔
تقریبا دو ہفتے قبل بعض شامی گھرانے اور داعشیوں کے تقریبا 300 خاندان الرقہ سے فرار ہو کر داعش کے زیر کنٹرول دیگر علاقوں مثلا المیادین شہر وغیر کی جانب چلے گئے تھے۔
شامی گروپ کے مطابق مذکورہ خاندان مختلف نوعیت کی کشتیوں کے ذریعے الرقہ شہر سے دریائے فرات کے جنوبی کنارے منتقل ہوئے تھے۔ اس کے بعد ان میں بعض خاندان دیر الزور صوبے کی طرف نکل گئے جب کہ دیگر گھرانے حماہ کے مشرق میں نواحی علاقوں کی جانب چلے گئے تھے۔