.

اسرائیلی زندانوں میں فلسطینیوں کی اجتماعی بھوک ہڑتال کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی زندانوں میں پابند سلاسل فلسطینی اسیران نے 17 اپریل 2017ء سے اسرائیلی مظالم کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی اجتماعی بھوک ہڑتال ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے مگر حالیہ بھوک ہڑتال کو اب تک کی سب سے بڑی اجتماعی بھوک ہڑتال قرار دیا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے فلسطینی محکمہ امور اسیران کے چیئرمین عیسیٰ قراقع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی زندانوں میں قید اسیران قائدین نے متفقہ طور پر 17 اپریل سے اجتماعی بھوک ہڑتال کا فیصلہ کیا۔ سترہ اپریل کو فلسطین بھر میں یوم اسیران منایا جاتا ہے۔ یہ بھوک ہڑتال اسی دن کی مناسبت سے شروع کی گئی ہے۔

قبل ازیں اسرائیلی جیل میں قید تحریک فتح کے رہ نما اور رکن پارلیمنٹ مروان البرغوثی کی طرف سےجاری کردہ ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے تمام اسیر کارکنان اور رہ نماؤں پر سترہ اپریل سے اجتماعی بھوک ہڑتال کی اپیل کی تھی۔

البرغوثی کا کہنا ہے کہ ہم بھوک ہڑتال سے قبل اسرائیلی انتظامیہ کے سامنے اپنے مطالبات کی فہرست پیش کریں گے۔ اگر ہمارے تمام مطالبات تسلیم کئے گئے تو بھوک ہڑتال کا اعلان واپس لیا جا سکتا ہے ورنہ اپنے مطالبات پورے ہونے تک بھوک ہڑتال جاری رکھی جائے گی۔

فلسطین میں اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کلب برائے اسیران کے چیئرمین قدورہ فارس کا کہنا ہے کہ اجتماعی بھوک ہڑتال اسیران کےعزم کا امتحان ہے۔ اتنی بڑی بھوک ہڑتال آج تک نہیں کی گئی ہے۔

انہوں نے اسرائیلی زندانوں میں پابند سلاسل تمام اسیران سے مطالبہ کیا کہ وہ صہیونی انتظامیہ کے مظالم کے جواب میں ذمہ داری اور بیداری کا مظاہرہ کریں۔ انتظامی حراست کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال کرنے والے اسیران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔

خیال رہے کہ اسرائیل کے 22 عقوبت خانوں میں 6500 فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ ان میں 29 فلسطینی اوسلو معاہدے سے بھی پہلے کےقید ہیں، 14 لڑکیوں سمیت 62 خواتین ،300 بچے اور 500 انتظامی حراست کے تحت قید فلسطینی بھی شامل ہیں۔