.

داعش عراق میں اپنے زیر قبضہ بیشتر علاقوں سے بے دخل

موصل میں سخت لڑائی جاری ہے لیکن داعش کے لیے فرار کا کوئی راستہ نہیں بچا: اتحادی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) اپنے زیر قبضہ بہت سے علاقوں سے محروم ہوچکا ہے۔

داعش نے جون 2014ء کے بعد عراق کے بیشتر شمال اور شمالی مغربی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سے فوج اور دوسری عراقی فورسز کو نکال باہر کیا تھا۔اس طرح اس کا عراق کے قریباً چالیس فی صد علاقے پر قبضہ ہوگیا تھا۔

عراق کی مشترکہ آپریشنز کمان کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ رسول نے منگل کے روز بغداد میں نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ بھرپور فوجی کارروائیوں کے بعد داعش سے بیشتر علاقے واپس لے لیے گئے ہیں اور اب اس تنظیم کے زیر قبضہ عراق کا صرف 6.8 فی صد علاقہ رہ گیا ہے۔

عراقی فورسز اس وقت عراق کے شمالی شہر موصل کے مغربی حصے میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف بڑی کارروائی کررہی ہیں جبکہ اس تنظیم کا اس وقت عراق کے شمالی قصبوں قائم ،تلعفر اور حوائجہ پر کنٹرول برقرار ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ عراقی فوج ،وفاقی پولیس ،خصوصی دستوں اور شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے جنگجو داعش کے خلاف زمینی کارروائی کررہے ہیں جبکہ امریکا اور دوسرے مغربی ممالک نے انھیں فضائی اور انٹیلی جنس مدد دی ہے اور ہتھیار اور جنگی آلات مہیا کیے ہیں۔

وفاقی پولیس نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ مغربی موصل میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنا رہی ہے اور مسجد النوری کی جانب پیش قدمی کی تیاری کی جارہی ہے۔اسی مسجد سے داعش کے خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی نے 2014ء میں اپنی خلافت کا اعلان کیا تھا۔

اتحادی فوج کے ترجمان کرنل جان دوریان نے نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ داعش نے موصل میں اپنے دفاع کے لیے سیکڑوں کار بم اور ڈرونز استعمال کیے ہیں۔اس کے بندوق بردار جنگجوؤں نے رہائشی علاقوں کی چھتوں پر پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں اور اس طرح شہریوں کو بھی اس تنازعے میں کھینچ لیا ہے۔ وہ عام شہریوں کو اپنے دفاع میں انسانی ڈھال کے طور پر بھی استعمال کررہے ہیں اور جولوگ ان کے زیر قبضہ علاقوں سے بھاگ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں ،انھیں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’مغربی موصل میں اگرچہ بہت سخت لڑائی لڑی جارہی ہے لیکن داعش کے لیے اب فرار کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا ہے۔اس دشمن کا مکمل طور پر محاصرہ کر لیا گیا ہے اور اب وہ کہیں نہیں جاسکتا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ عراقی فورسز نے ایک سو دن کی لڑائی کے بعد جنوری میں موصل کے مشرقی حصے پر قبضہ کرلیا تھا اور اب وہ داعش کے آخری مضبوط گڑھ شہر کے مغربی حصے پر قبضے کے لیے کارروائی کررہی ہیں لیکن داعش کے جنگجو شہر کے گنجان آباد قدیم حصے میں عراقی فورسز کی سخت مزاحمت کررہے ہیں۔

وہ قدیم شہر کی تنگ وتاریک گلیوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور وہاں رہ جانے والے شہریوں کو عراقی فورسز کے خلاف جنگ میں اپنے دفاع کے لیے استعمال کررہے ہیں۔تنگ گلیوں کی وجہ سے عراقی فورسز کی قدیم شہر میں نقل وحرکت محدود ہوچکی ہے اور وہ شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے توپ خانے اور فضائی قوت کا بھی محدود استعمال کررہی ہیں اور اب داعش سے دوبدو لڑائی ہی ان کے لیے واحد راستہ رہ گیا ہے۔