ایران کی ضمانت پر شام میں جنگ بندی مشکوک ہے:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی حکومت نے کہا ہے کہ شام میں روس، ترکی اور ایران کی ضمانت پر جنگ بندی کامعاہدہ اہم پیش رفت ہے مگر ایران کی ضمانت مشکوک سمجھی جاتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعرات کے روز واشنگٹن نے ایک بیان میں کہا کہ شام میں خون خرابے کی روک تھام کے لیے رس، ترکی اور ایران پر مشتمل ضامن گروپ کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان خوش آئند ہے تاہم ایران کے کردار پر امریکا کو تشویش بھی لاحق ہے۔

ادھر امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آستانا میں شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں ہونے والی بات چیت میں امریکا نے ایک مبصر کے طور پرشرکت کی ہے۔ شام میں تشدد کے خاتمے کے لیے امریکا مفاہمتی کردار ادا کرنے کوششیں جاری رکھے گا۔ تاہم شام میں جنگ بندی یا قیام امن کا ایسا کوئی اقدام جس میں ایران شامل ہو مشکوک سمجھا جائے گا۔

قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ شام میں جنگ بندی کے حوالے سے ایران کا کردار مشکوک ہے۔ ایران شامی قوم کے قتل عام میں ملوث ہےاس لیے اسے قابل اعتبار ملک قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ادھر آستانا میں شامی اپوزیشن کے ترجمان اسامہ ابو زید نے ایک بیان میں کہا کہ ہم شام کی تقسیم کی تمام سازشوں کے خلاف ہیں۔ ہم ایسے کسی معاہدے کا حصہ نہیں بنیں گے جس میں شام کی تقسیم کی بات کی جائے گی۔ انہوں نے شام میں موجود غیرملکی ملیشیاؤں کے نکالے جانے کا ٹائم فریم دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

ایک سوال کے جواب میں اسامہ ابو زید نے کہا کہ بشارالاسد کی حمایت اور معاونت میں روس نے تمام معاہدے توڑ ڈالے ہیں۔ ہمیں اس وقت حیرت ہوئی جب معاہدے کے باوجود روس نے شامی اپوزیشن کے زیرکنٹرول علاقوں پر وحشیانہ بمباری شروع کردی۔

انہوں نے کہا کہ شامی اپوزیشن قوم پر بیرل بم گرانے والوں، اسلحہ استعمال کرنے والوں اور کیمیائی حملے کرنے والوں سے لڑائی جاری رکھے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز قزاقستان کے دارالحکومت آستانا میں شام کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات میں ترکی، روس اور ایران نے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں