.

یمن: حوثی ملیشیائیں خواتین کا سہارا لینے پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں باغی ملیشیاؤں کی صفوں میں بھرتی کیے جانے والے ہزاروں افراد بالخصوص بچوں (جن کو اُن کے گھر والوں کو بتائے بغیر لڑائی میں جھونکا گیا) کے فرار ہو جانے کے بعد حوثی ملیشیائیں صنعاء میں خواتین کے لیے تربیتی کیمپ کھولنے پر مجبور ہو گئیں ہیں۔

اس سلسلے میں موصول ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ملیشیاؤں نے ان کیمپوں کی نگرانی کا کام باغیوں کی حکومت میں حوثیوں کے نزدیک سمجھے جانے والے وزیر حسن زید کو سونپا ہے۔ کیمپوں میں خواتین کو ہتھیاروں کے استعمال ، فوجی گاڑیوں کو چلانے اور مقابلہ کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔

سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یمنی اخباری ذرائع نے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیائیں لڑکیوں کے گھر والوں کو طبی تربیت کے کورسز کے حوالے سے قائل کرتی ہیں۔ اس کے بعد ان لڑکیوں کا گروپ بنا کر انہیں پورے ایک ماہ کے لیے نا معلوم مقام پر لے جایا جاتا ہے۔ یہاں پر گروپ میں شریک لڑکیوں کو مالی رقوم اور "بندوقیں" فراہم کی جاتی ہیں تا کہ ان میں بعض لڑکیاں واپس جا کر دیگر لڑکیوں کو ان کورسز کی ترغیب دیں۔

حوثیوں کے زیر انتظام ذرائع ابلاغ میں نشر کیے جانے والے وڈیو کِلپوں میں صنعاء میں کیمپوں اور اسکولوں میں خواتین کو اسلحے کے استعمال اور مقابلہ کرنے کی تربیت حاصل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

دوسری جانب میڈیا ذرائع نے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیائیں خواتین کے گروپ کو استعمال کر رہی ہیں جو مدد کے بہانے گھروں میں داخل ہوتی ہیں اور پھر وہاں رہنے والوں کے بارے میں معلومات اکٹھا کرتی ہیں۔ اس کارروائی کا مقصد اہل خانہ کی معلومات جان کر اُن پر ٹیکس لاگو کرنا ، جبری بھرتی کرنا یا پھر گھر کے مالکان کو بلیک میل کرنا ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں باغی ملیشیائیں سماجی تقریبات کے موقع پر بھی اپنے زیر انتظام خواتین عناصر کے ذریعے مختلف معلومات جمع کرتی ہیں۔