شام : دمشق کے مشرق میں نئی جبری بے دخلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام میں اپوزیشن جنگجوؤں نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ شامی حکومت کی افواج اور اس کے حلیف عناصر فضائی حملوں اور شدید گولہ باری کے بعد شامی دارالحکومت دمشق کے نواح میں اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقے القابون پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

تاہم اپوزیشن فورسز کا کہنا ہے کہ القابون کے اندر ایک چھوٹے سے حصّے پر ابھی تک اس کا کنٹرول ہے۔

ادھر شام میں انسانی حقوق کے مانیٹرنگ گروپ کے مطابق دارالحکومت دمشق کے مشرق کی جانب سے جبری بے دخلی کا شکار افراد کی تیسری کھیپ کو منتقل کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں بسوں کی آمد آج اتوار کے روز ہو رہی ہے۔

شامی حکومت کی افواج نے ایک روز کے انتباہ کے بعد بدھ کو القابون پر پھر سے شدید گولہ باری شروع کی۔ انتباہ میں اپوزیشن جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے اور شمالی شام میں اپوزیشن فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں کی جانب کوچ کرنے پر آمادہ ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے القابون سے ملحق علاقے برزہ کو اپوزیشن کے سیکڑوں جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں سے خالی کرا لیا گیا۔ وہاں موجود اپوزیشن جنگجوؤں نے اپنے ہتھیار ڈالنے اور اِدلب صوبے کی طرف کوچ کرجانے کا فیصلہ کیا تھا۔

القابون میں تقریبا ایک مربع کلومیٹر رقبے کے اندر اس وقت 1500 کے قریب جنگجو اور ان کے اہل خانہ محصور ہیں۔ ایک موقع پر جنگ کے دوران شام کے دیگر علاقوں کے ہزاروں بے گھر افراد نے القابون میں پناہ لے رکھی تھی۔ یہاں کی آبادی کی اکثریت نے بم باری اور گولہ باری میں اضافے کے بعد آخری دو ماہ میں راہِ فرار اختیار کی۔

برزہ کے بعد اب القابون بھی

برزہ کے بعد القابون کا ہاتھ سے نکل جانا اپوزیشن فورسز کے لیے ایک کاری ضرب ہے جو دارالحکومت کے نواح میں موجودگی برقرار رکھنے کے لیے لڑ رہی ہیں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ نے محاصروں کے اس طریقہ کار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو ہر مرتبہ جبری بے دخلی کی کارروائیوں سے قبل دیکھنے میں آتے ہیں۔ اس لیے کہ اس کے تحت شام حکومت کی جانب سے ان علاقوں کے رہنے والوں پر جبری نقل مکانی اور ہجرت مسلط کی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں