.

ایران کی طرف سے حوثیوں کے لیے کیمیائی ہتھیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

‏‫یمن میں فوجی ذرائع نے "العربیہ" نیوز چینل کو تصدیق کی ہے کہ خطرناک ہتھیاروں کی ایک کھیپ جس کو بین الاقوامی طور پر ممنوعہ کیمیائی اسلحہ قرار دیا گیا ہے.. یمن میں حوثی ملیشیاؤں اور معزول صدر صالح کے محافظین کو اسمگل کی گئی۔ ذرائع کے مطابق ان ہتھیاروں کو آکسیجن سلنڈروں کے اندر چھپایا گیا تھا اور طبی امداد کے نام پر باغیوں کے حوالے کیا گیا۔

ذرائع نے واضح کیا کہ مذکورہ ہتھیار یمنی شہریوں کے خلاف بالخصوص الحدیدہ میں حوثیوں کے زیر انتظام ایک عسکری مرکز پر بم باری کے دوران استعمال کیے جائیں گے۔ اس کے بعد باغیوں کی جانب سے عرب اتحاد پر ان ہتھیاروں کے استعمال کا الزام عائد کیا جائے گا تا کہ عالمی برادری کے سامنے اتحاد کو شرمندگی سے دوچار کیا جا سکے۔

ذرائع نے "العربیہ" کو بتایا کہ یہ کھیپ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے پیروکار حکام کی جانب سے حوثیوں کے حوالے کی گئی۔ یہ کھیپ جیبوتی سے الحدیدہ کی بندرگاہ (حوثیوں کے زیرِ قبضہ) آنے والے بین الاقوامی تجارتی ترسیل کے ایک جہاز پر موجود تھی۔

ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیاؤں نے اس اسلحے کو ایک اپنے ایک عسکری کمانڈر کے زیر قیادت انتہائی سخت پہرے میں الحدیدہ ، صنعاء اور تعز بھجوایا تا کہ اسے حملوں میں استعمال کیا جا سکے اور الزام عرب اتحاد پر تھوپ دیا جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی نقل و حرکت عرب اتحاد اور یمنی آئینی حکومت کی افواج کی جانب سے اس اعلان کے بعد سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ الحدیدہ کی بندرگاہ کو باغیوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے مناسب عسکری لوازمات پورے کر لیے گئے ہیں۔