باغیوں سے بقیہ شہر آزاد کرانے کے پلان تیار ہیں : یمنی چیف آف اسٹاف
یمن کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف محمد المقدشی کا کہنا ہے کہ ان کی افواج کو یمنی حکومت کے سربراہ کی جانب سے سیاسی فیصلے کا انتظار ہے جس کے بعد باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں متعدد محاذوں پر نئے عسکری مشنوں کا آغاز کیا جائے گا۔
عربی روزنامے "الشرق الاوسط" کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے میں المقدشی نے بتایا کہ یمن کی مسلح افواج نے الحدیدہ شہر سمیت ملیشیاؤں کے زیر قبضہ باقی ماندہ شہروں کو آزاد کرانے کے لیے منصوبہ بندی کر لی ہے۔
المقدشی کے مطابق باغی اس وقت خوف کی حالت میں ہیں اور وہ طویل عرصے تک مقابلہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ یمنی فوج تمام محاذوں پر بالخصوص تعز اور نہم میں باغیوں کا گھیراؤ کرتے ہوئے قابل ذکر صورت میں پیش قدمی کر رہی ہے۔ اس کے متوازی ساحلی پٹی پر المخا ، الخوخہ اور میدی میں بھی بڑے پیمانے پر عسکری پیش قدمی ہوئی ہے۔
یمن کی سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کو اس وقت تعز میں گھمسان کی لڑائی کا سامنا ہے۔ اس دوران باغیوں کے زیر قبضہ جمہوری محل اور بعض اہم مقامات واپس لینے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
ادھر یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد نے منگل کے روز واضح طور پر باغیوں کے دونوں فریق حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کو.. امن کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں اور الحدیدہ میں فوجی کارروائی روکنے کی تجاویز کو ناکام بنانے کا الزام عائد کیا۔
علاوہ ازیں سلامتی کونسل میں اپنا بیان پیش کرتے ہوئے ولد الشیخ احمد نے باغیوں کو صنعاء میں خود پر ہونے والے قاتلانہ حملے کا ذمے دار ٹھہرایا۔ خصوصی ایلچی نے حوثیوں پر مزید الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہا کہ ان ملیشیاؤں نے شہریوں پر بم باری کی اور صحافیوں اور کارکنان کو بھی نشانہ بنایا۔