الرّقہ آپریشن کے بعد بھی "کُرد پیپلز پروٹیکشن" کو مسلح کریں گے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے منگل کے روز کہا ہے کہ الرقہ شہر کو داعش تنظیم سے واپس لیے جانے کے بعد بھی ہو سکتا ہے کہ امریکا کو شام میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹوں کو ہتھیاروں اور ساز و سامان فراہم کرنے کی ضرورت پڑے۔

ادھر نیٹو اتحاد کا رکن ترکی جو کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹوں کو اپنے لیے خطرہ شمار کرتا ہے، اس کے مطابق میٹس اپنے ایک پیغام میں یہ باور کرا چکے ہیں کہ داعش تنظیم کی ہزیمت کے فوری بعد امریکا کی طرف سے ان کُرد فورسز کو پیش کیا جانے والا اسلحہ واپس لے لیا جائے گا۔

میٹس نے جو طیارے کے ذریعے جرمنی جا رہے تھے، کہا کہ کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹوں کے جنگجو گزشتہ ماہ امریکا کی جانب سے الرقہ پر حملے کے لیے مزید ساز و سامان فراہم کرنے کے فیصلے سے قبل ہی ہتھیاروں سے بہت اچھی طرح لیس تھے۔

میٹس کے مطابق الرقہ شہر کی واپسی کے بعد بھی شدت پسند تنظیم کے خلاف معرکہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ "کرد یونٹوں سے اسلحہ واپس لیے جانے کا انحصار اگلے مشن پر ہے اس لیے کہ ایسا نہیں ہے کہ الرقہ کے بعد لڑائی اختتام پذیر ہو جائے گی"۔

ترکی کے نزدیک کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹ درحقیقت کردستان لیبر پارٹی کا ہی پھیلاؤ ہے جس نے 80ء کی دہائی سے ترکی کے جنوب مشرق میں بغاوت کا علم بلند کر رکھا ہے۔ ترکی کا موقف ہے کہ ان فورسز کو کسی بھی قسم کا اسلحہ فراہم کرنا ترکی کے امن کے لیے خطرہ ہے۔

تاہم امریکا شام میں داعش تنظیم کے مرکزی اڈے الرقہ شہر میں تنظیم کو ہزیمت سے دوچار کرنے کے واسطے کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹوں کو اپنا بنیادی حلیف شمار کرتا ہے۔

جیمز میٹس برسلز میں جمعرات کے روز اپنے ترک ہم منصب فکری اِشیق سے ملاقات کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں