عسیلان میں باغیوں کا بھاری جانی نقصان،3 اہم ٹھکانے یمنی فوج کے پاس واپس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ شبوہ صوبے کے شمال مغرب میں عسیلان کے محاذ پر عرب اتحادی طیاروں کے فضائی حملوں اور شدید جھڑپوں کے نتیجے میں باغی ملیشیا کے 20 سے زیادہ ارکان مارے گئے۔ اس دوران یمنی فوج نے لڑائی کے بعد عسیلان کے جنوب میں تزویراتی اہمیت کے حامل تین ٹھکانوں کا کنٹرول واپس لے لیا۔

باغیوں کی ملیشیا کو متعدد محاذوں پر بھاری نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ ان میں نمایاں ترین شبوہ صوبہ ہے جہاں یمنی فوج کو گھمسان کی لڑائی کا سامنا کرنا پڑا۔

شبوہ میں عسیلان کی عدالت کے جنوب میں باغیوں کے ایک مجمع کو اتحادی طیاروں کے حملوں نے بم باری کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 19 جنگجو اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اتحادی طیاروں نے حجہ صوبے کے دو ضلعوں حیران اور حرض کے درمیان واقع دیہی علاقے میں بیلسٹک میزائل داغنے کا ایک پلیٹ فارم بھی تباہ کر ڈالا۔ ایک عسکری ذریعے نے بتایا کہ مذکورہ پلیٹ فارم کی تباہی باغی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کی سرحد کی طرف ایک بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعد عمل میں آئی۔

ادھر تعز صوبے کے مغرب میں موزع ضلعے کے مشرق میں باغی ملیشیا کے ٹھکانوں پر اتحادی طیاروں کے حملوں میں تقریبا 15 باغی مارے گئے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے الہاملی کے علاقے کے شمال میں یمنی فوج کے ٹھکانوں پر دراندازی کی کوشش کے بعد ضلعے کے شمال میں باغیوں اور یمنی فوج کے درمیان شدید لڑائی بھڑک اٹھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں