اسرائیلی فوج میں خواتین اہل کاروں کے خلاف جنسی ہراسیت کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج کی جانب سے کرائے جانے والے ایک اندرونی سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ فوج میں بھرتی ہونے والی ہر چھ خواتین اہل کاروں میں ایک خاتون فوجی کو جنسی ہراسیت کا نشانہ بننا پڑا۔

اسرائیلی اخبار ہآریٹز کے مطابق مذکورہ خواتین کو اپنی عسکری خدمت کے دوران مرد فوجی اہل کاروں ، افسران یا ریزرو فوجیوں کی جانب سے جنسی ہراسیت کا سامنا ہوا۔

سروے میں 2016 کے بیانات کی بنیاد پر سامنے آنے والے نتائج کے مطابق جنسی ہراسیت کا سامنا کرنے والی خواتین فوجیوں میں 6% نے بتایا کہ انہیں اپنی عسکری خدمت کے دوران دو یا تین مرتبہ ہراسیت کا نشانہ بنایا گیا جب کہ 3% کا کہنا ہے کہ انہیں چار یا اس سے زیادہ مرتبہ ہراسیت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سروے میں مزید بتایا گیا ہے کہ 60% خواتین فوجیوں کا ماننا ہے کہ ان کے یونٹوں میں "جنسی ہراسیت کی فضا" چھائی رہتی ہے۔ ان خواتین کے مطابق ہراسیت کے ماحول میں افسران اور فوجی اکثر و بیشتر جنسی قصے کہانیاں اور لطیفے سناتے ہیں یا پھر جنسی نوعیت کی تصاویر بانٹتے ہیں۔ اگرچہ 2014 کے مقابلے میں یونٹوں کے مجموعی ماحول میں بہتری کا تناسب نظر آیا ہے (2014 میں 65% خواتین فوجیوں نے یونٹوں کے ماحول کو جنسی چھاپ کا حامل قرار دیا تھا) تاہم اب بھی اسرائیلی فوج کے یونٹوں میں یہ ماحول چھایا نظر آ رہا ہے۔

مذکورہ سروے میں قابض اسرائیلی فوج کی ہزاروں خواتین اہل کاروں نے اپنی رائے کا اظہار کیا جن میں عام فوجی اہل کار سے لے کر اعلی افسران تک شامل ہیں۔

سروے کے دیگر نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 57% خواتین نے اہانت آمیز اور ذو معنی باتوں کے سننے کی شکایت کی ، 35% کو چُھونے اور نامناسب حرکتوں کا سامنا کرنا پڑا ، 12% کو "باعث شرمندگی برہنگی" کا سامنا ہوا ، 3% کو جنسی نوعیت کی دھمکیاں ملیں اور 1% کو جنسی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں