عراقی فورسز کی الحویجہ میں داعش مخالف نئی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراقی فورسز نے تیل کی دولت سے مالا مال شمالی شہر کرکوک کے مغرب میں واقع قصبے الحویجہ میں داعش کے خلاف جمعرات کو ایک نئی کارروائی شروع کردی ہے۔عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے کرکوک سمیت کردستان کی آزادی کے لیے مجوزہ ریفرینڈم کے انعقاد سے صرف چار روز قبل اس فوجی آپریشن کا اعلان کیا ہے۔

حیدر العبادی اس ریفرینڈم کو غیر آئینی قرار د ے چکے ہیں اور انھوں نے خود مختار کردستان کی علاقائی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ اس کو منسوخ کردے ۔

کرکوک میں کردستان کے برعکس ترکمن اور عرب بھی آباد ہیں اور وہ آزادی ریفرینڈم کی مخالفت کررہے ہیں کیونکہ وہ بغداد سے الگ نہیں ہونا چاہتے۔ کرکو ک پہلے بغداد ہی کی عمل داری میں تھا لیکن 2014ء میں داعش کی چڑھائی کے بعد عراقی فورسز وہاں سے پسپا ہوگئی تھیں اور پھر کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ نے اس شہر کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے داعش کو اس پر قبضے سے روک دیا تھا اور تب سے اس کرد ملیشیا ہی کا اس شہر پر کنٹرول ہے۔

عراقی دارالحکومت بغداد سے شمال میں واقع الحویجہ اور مغرب میں شام کی سرحد کے نزدیک واقع بعض علاقے ابھی تک داعش کے قبضے میں ہیں۔اس جنگجو گروپ نے جون 2014ء میں اچانک چھاپا مار کارروائی کے بعد عراق کے شمالی اور شمال مغربی شہروں پر قبضہ کر لیا تھا اور عراق کا قریباً ایک تہائی علاقہ اس کے قبضے میں آ گیا تھا لیکن گذشتہ ایک سال کے دوران میں عراقی فورسز نے داعش کے زیر قبضہ بیشتر علاقے بازیاب کرا لیے ہیں۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ آیا کردستان اور کرکوک میں ریفرینڈم سے امریکا کی حمایت سے الحویجہ میں عراقی فورسز کی داعش مخالف کارروائی متاثر ہوگی۔اقوام متحدہ کے مطابق الحویجہ میں داعش مخالف کارروائی کے دوران کم سے کم پچاسی ہزار افراد بے گھر ہوسکتے ہیں۔

امریکا نے کردستان میں مجوزہ آزادی ریفرینڈم کے خلاف بدھ کو ایک سخت بیان جاری کیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ہیتھر نورٹ نے کہا کہ ’’ امریکا عراقی کردستان کی علاقائی حکومت کے زیر انتظام آزادی کے مسئلے پر ریفرینڈم کی شدید مخالفت کرتا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں