.

دہشت گردی کے سہولت کاروں کو ہر صورت روکنا ہو گا: بحرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست بحرین کے وزیر خارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ نے کہا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے ممالک اور افراد کو ہر صورت میں روکنا ہو گا۔ اگر یہ لوگ باز نہ آئے تو دہشت گردی کے ناسور پر قابو پانا مشکل ہے۔

العربیہ چینل کے مطابق نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ "دنیا کو ایسے بدمعاش ممالک نہیں چاہئیں جو نفرت اور افراتفری کو پھیلانے کی سازشیں کریں۔ عالمی برادری کو دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ممالک کو تنہا کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔"

بحرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین اور مصر نے طویل صبر کے بعد قطر کا بائیکاٹ کیا ہے۔ خالد بن احمد آل خلیفہ نے الزام عاید کیا کہ دوحہ کی جانب سے منامہ میں حکومت کی تبدیلی اور ملک کا نظام بدلنے کی سازشیں بھی کی جاتی رہی ہیں۔

انہوں نے دوحہ پر زور دیا کہ وہ بائیکاٹ کرنے والے عرب ممالک کے مطالبات اور عالمی معاہدوں کی پاسداری کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر کے خلاف اقدامات سے خطے کی اقوام کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ قطری عوام کو خلیجی ملکوں کی طرف سے ہر ممکن سہولت دی جاری رہی ہے۔ اس کا اندازہ فریضہ حج کی ادائی کے لیے قطری شہریوں کو دی جانے والی سہولیات سے ہوتا ہے۔ بحرینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے حج کو سیاسی رنگ دینے والے اپنی سازشوں میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی رجیم اپنی قوم کی منہ سے نوالہ چھین کر دہشت گردی کی مدد کر رہا ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی دہشت گردی کی معاونت روکنے پر مںحصر ہے۔ ایران کو حزب اللہ جیسے گروپوں کی مالی اور فوجی امداد ہرصورت میں بند کرنا ہو گی۔

عراق سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بغداد حکومت نے داعش کے خلاف جنگ میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں نے غیر ملکی مدد سے آئینی حکومت کا تختہ الٹا اور ریاستی اداروں پر قبضہ کیا ہے۔