.

اقوامِ متحدہ کی قرار داد 2216 کو تسلیم نہیں کرتا : علی عبداللہ صالح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح نے ایک مرتبہ پھر یمن کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو نشانہ بناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ قرار داد نمبر 2216 کو کسی طور تسلیم نہیں کرتے۔ معزول صدر نے اس قرار داد کو جنگ کی قرار داد شمار کیا۔

پیر کی شام اپنے ایک خطاب میں صالح کا مزید کہنا تھا کہ وہ نہ تو قومی مکالمہ کانفرنس کے نتائج کو تسلیم کرتے ہیں جن کے سبب یمن ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا اور ساتھ ہی خلیجی امن منصوبے کو بھی مسترد کرتے ہیں۔

صالح کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی بین الاقوامی قرار دادوں اور خلیجی منصوبے کی بنیاد پر مذاکرات کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یمن کی آئینی اور قانونی حکومت کے خلاف بدستور ہٹ دھرمی کا اظہار کرتے ہوئے صالح نے کہا کہ "صدر ہادی کے لیے دارالحکومت صنعاء واپسی کا کوئی راستہ نہیں"۔ معزول صالح کے اس متکبرانہ لہجے سے ایسا نظر آتا ہے کہ شریک باغی حوثی ملیشیا کے ساتھ کچھ عرصے سے جاری کشیدگی کی انتہا کا زور ٹوٹ گیا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی کا کہنا ہے کہ اس بات کا وسیع پیمانے پر ادراک ہو چکا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے ہر پرامن تصفیے کو مسترد کیا جا رہا ہے.. اس لیے کہ وہ جنگ کے نتیجے میں ملکی دولت کو بیٹھ کر کھا رہے ہیں اور یمنی عوام کے معاشی بوجھ کی ذمے داری نہیں اٹھا رہے۔