ترکی اور ایران نے عراقی کردستان کو سخت پابندیوں سے خبردار کر دیا
ایران کے وزیر دفاع امیر خاتمی نے زور دے کر کہا ہے کہ ایران اور ترکی خطے میں کسی بھی نئے منظرنامے پر عمل درامد کی اجازت نہیں دیں گے۔ منگل کے روز تہران میں ترکی کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف خلوصی آکار سے ملاقات کے دوران خاتمی نے تمام شعبوں میں ایران اور ترکی کے درمیان تعلقات کو سراہا۔
اس موقع پر ترکی کے چیف آف اسٹاف نے باور کرایا کہ عراقی کردستان کے ریفرینڈم کے بعد خطے کے حالات تبدیل نہ ہوئے تو کردستان کو ممکنہ طور پر شدید سیاسی ، اقتصادی اور عسکری پابندیوں کا سامنا کرنا ہو گا۔
ترک صدر رجب طیب ایردوآن منگل کے روز یہ اعلان کر چکے ہیں کہ علاحدگی کے ریفرینڈم کے بعد انقرہ حکومت شمالی عراق پر نئی پابندیاں عائد کرے گی۔
ترکی کو اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ عراقی کردستان میں ہونے والا خود مختاری ریفرینڈم اُس کی سرزمین پر موجود کُردوں کے اندر علاحدگی پسندی کو بھڑکائے گا۔
-
کردستان کے خلاف ترکی، عراق، ایران کی مشترکہ مہم جوئی کا امکان
ترکی عراقی فوج کی معاونت کے لیے 12 ہزار فوجی بھیجے گا
بين الاقوامى -
یورپ ترکی پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے: ایردوآن
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے زور دے کر کہا ہے کہ ان کے ملک کو یورپی یونین ...
بين الاقوامى -
بیرون ملک ترکی کے سب سے بڑے فوجی اڈّے کا افتتاح
ترکی نے ہفتے کے روز صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں بیرون ملک اپنے سب سے بڑے ...
بين الاقوامى