.

حوثیوں نے یمنی پروفیسر کا خاندان موت کے گھاٹ اتار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں بیرونی آقاؤں کی معاونت سے آئینی حکومت کا تختہ الٹنے اور ملک میں کشت وخون کے وحشیانہ جرائم میں ملوث حوثیوں نے اپنی خونی تاریخ میں ایک اور واقعے کا اضافہ کرتے ہوئے ایک پورے علمی خاندان کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ انسانیت سوز واقعہ جنوب مغربی یمن کے علاقے تعز میں پیش آیا جب باغیوں نے سیاسی انتقام لیتے ہوئے ایک پورے خاندان کو تہہ تیغ کردیا۔ باغیوں کی طرف سے وحشیانہ قتل عام کے بعد ورثاء کو مقتولین کی لاشیں تک نہ دیں۔ انہیں دفن کرنے دیا گیا اور نہ ان کے زخمیوں کے علاج کی اجازت دی گئی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق جمعہ کی شام حوثی شرپسندوں نے جنوب مشرقی تعز کے عبدان ڈاریکٹوریٹ میں صبر الموادم کے مقام پر استاذ طہ حسن فارع کے گھر پر دھاوا بولا۔ فارع خود گھر پرموجود نہیں تھے۔ باغیوں نے اس کی اہلیہ اور بیٹے اور ایک بھائی کو گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا۔

حوثی دہشت گردوں کا یہ ایک نیا جنگی جرم ہے جو ان کے انسانیت کے خلاف جرائم کے تسلسل کا خونی واقعہ ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ حوثیوں نے پروفیسر ھسن فارع کی بیوی 35 سالہ اتحاد قاسم محمد لی، 15 سالہ بیٹے انس طہ حسن فارع اور 40 سالہ بھائی محمد حسن فارع کو گولیاں مار کر قتل کردیا۔

یمن میں اساتذہ کی نمائندہ تنظیم نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے حوثیوں اور علی صالح ملیشیا کے ہاتھوں نہتے شہریوں کا اجتماعی قتل عام قرار دیا ہے۔

تنظیم کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ باغیوں نے ایک بے گناہ خاندان کو تہہ تیغ کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ملک میں وحشت اور بربریت کے ذریعے اپنی دھاک بٹھانے کی مذموم پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اس وحشیانہ کارروائی کے خلاف ملک کے تعلیمی حلقوں کی طرف سے شدیدا حتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پروفیسر طہ کے خاندان کے افراد کے وحشیانہ قتل کی تحقیقات کرائے اور اس میں ملوث باغیوں کو گرفتار کرکے انہیں قرار واقعی سزا دے۔