کردستان عراق سے قطعی طور پر جنگ نہیں چاہتا: صالح مصطفی بکیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

کردستان علاقائی حکومت عراقی فوج کے ساتھ کبھی لڑائی نہیں کرنا چاہے گی۔ اس امر کا اظہار نیم خودمختار صوبہ کے وزیر خارجہ صالح مصطفی بکیر نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

صالح کا مزید کہنا تھا کہ عراق اور کردستان میں اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ تنازع تیل کے ذخائر یا پرچم کا نہیں بلکہ دو اقوام کے مستقل کا سوال ہے۔

ترکی نے بدھ کے روز ایک بیان میں اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ عراقی فورسز کی جانب سے کرکوک کا علاقہ کرد فورسز سے واپس لئے جانے کے بعد سے اوائل ہفتہ کردوں کے آزادی ریفرینڈم کی صورت میں سامنے والی غلطی کا ازالہ ہو گیا ہے۔

عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے کی قیادت سے ترکی کے بہت قریبی رابطے ہیں تاہم اس کے باوجود انقرہ نے کردوں کو علاحدگی کے لئے ریفرینڈم نہ کرانے پر زور دیا تھا۔ عراق کی مرکزی حکومت اور ایران کرد ریفرینڈم کے سخت خلاف تھے۔ اس ریفرینڈم میں نوے فیصد رائے دہندگان نے عراق سے علاحدگی کے حق میں رائے دی تھی۔

کرد ریفرینڈم نے عراقی کردستان کے سربراہ مسعود بارزانی کو انتہائی مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ اس کے بعد سے ریفرینڈم کی افادیت سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ نتیجتاً عراقی فورسز نے تیل کی دولت سے مالا مال کرکوک سمیت متعدد دیگر کرد علاقوں پر وفاقی حکومت کا کنٹرول بحال کر دیا ہے۔

بدھ کے روز کرد حکام کے اعلان میں بتایا گیا ہے کہ کرد مجلس قانون ساز اور صدر بارزانی کے اپنے عہدے کے لئے ہونے والا انتخاب ملتوی ہو گیا ہے۔ کرکوک کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے علاقائی الیکشن کمیشن نے بتایا ہے کہ عراقی کرد پارلیمنٹ کے لئے ووٹنگ کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق یکم نومبر کو ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخاب کے لئے ناکافی امیدوار سامنے آئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں