کردستان کا بحران: مزاحمت کے بغیر پیشمرگہ کا اِنخلا کیوں ہوا؟
عراق میں کرکوک اور نینوی اور دیالی صوبے کے متنازع علاقوں سے کُرد فورسز کے اچانک انخلاء نے پیشمرگہ فورسز کی اسلحہ لیس طاقت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ساتھ ہی ان وجوہات کے بارے میں بات کی جا رہی ہے جن کے سبب کردوں نے عراقی فورسز کے خلاف کوئی مزاحمت نہ کی جب کہ 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے سقوط کے بعد سے امریکا کی جانب سے کُردوں کو ہتھیاروں اور تربیت کی مسلسل فراہمی جاری ہے۔
عراقی کردستان کے صدر مسعود بارزانی نے منگل کے روز کہا کہ کرکوک میں جو کچھ ہوا اس کی وجہ کُرد سیاسی شخصیات کے انفرادی فیصلے ہیں۔
کرد سیاسی قوتوں کی جانب سے صدر مسعود بارزانی پر غلطیوں کے ارتکاب کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جب کہ کردستان کے پارلیمنٹ کے اسپیکر نے ان سے اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ 25 ستمبر کو کردستان کی خودمختاری کے حوالے سے ہونے والے ریفرینڈم کے منفی اثرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کردستان نیشنل یونین سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمنٹ ریزان الشیخ نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ بارزانی نے کردستان کو کمزور کر ڈالا اور کرد ریاست کے حوالے سے کُردوں کی امیدوں اور خوابوں کو چکناچُور کر دیا ہے۔
کردستان حکومت اور پیشمرگہ فورسز کی قیادت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کو علی الصبح عراقی فورسز اور الحشد الشعبی ملیشیا نے ایرانی جنرل اقبال پور کی قیادت میں پاسداران انقلاب کے عناصر کے ساتھ مل کر حملہ کر دیا اور تیزی کے ساتھ کرکوک اور دیگر علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔
ان ذرائع کا کہنا ہے کہ بغداد حکومت نے ایرانی حکومت کے نمائندے اور قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی رابطہ کاری کے ذریعے کردستان نیشنل یونین پارٹی کے ساتھ انخلاء کا سمجھوتا طے کیا تھا۔ اس کے تحت کرکوک صوبے کے مرکز میں عراقی مشترکہ فورسز کی کسی بھی کارروائی یا دھاوے سے گریز پر اتفاق رائے ہوا تھا۔ بدھ کی صبح جاری بیان میں عراقی فورسز نے اعلان کیا کہ کرکوک کے علاوہ دیالی اور نینوی صوبوں کے دیگر علاقوں پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے جن میں موصل ڈیم شامل ہے۔
اس طرح شمالی عراق میں وزارت تیل کی ایک ذیلی آئل کمپنی کے زیر انتظام تمام آئل فیلڈز اور تنصیبات پر بغداد کی مرکزی حکومت کا کنٹرول ہو گیا ہے۔
امریکا نے خبردار کیا تھا کہ داعش تنظیم کے خلاف لڑنے کے لیے کردوں اور عراقی فورسز کو واشنگٹن حکومت کی جانب سے دیا جانے والا اسلحہ داخلی لڑائی میں استعمال نہ کیا جائے۔ ادھر ایک سینئر جرمن اہل کار نے بتایا کہ کردستان میں حالیہ جارحیت کے سبب جرمن فوج نے پیشمرگہ فورس کی تربیت کا مشن روک دیا ہے۔
یورپی یونین میں خارجہ ، سیاسی اور سکیورٹی امور کی کمشنر فیڈریکا موگرینی نے باور کرایا کہ یونین عراق کی یک جہتی اور عراقی آئین کے احترام کو سپورٹ کرتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایک اعلان میں کہا تھا کہ ان کا ملک کردستان کے تنازع میں مکمل طور پر غیر جانب دار رہے گا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح کیا تھا کہ " ہم یہ نہیں چاہتے کہ ان کا باہمی تصادم ہو"۔
کرکوک کے واقعات کے آغاز کے ساتھ ہی مبصرین نے اس توقع کا اظہار کیا کہ پیشمرگہ اور اس کے زیر انتظام دیگر کرد عناصر کا عراقی فوج اور الحشد الشعبی ملیشیا کے ساتھ خونریز تصادم ہو سکتا ہے۔ تاہم 13 اکتوبر کو عراقی فوجی قافلوں نے کرکوک کے اطراف پہنچ کر پیشمرگہ فورسز کو 15 اکتوبر کی رات 12 تک نکل جانے کی مہلت دی تو اس کے بعد کرد فوری طور پر وہاں سے کوچ کر گئے اور کوئی مزاحمت دیکھنے میں نہ آئی۔ عراقی کردستان کے نائب صدر کوسرت رسول کے مطابق کرکوک میں پیشمرگہ فورسز کے 3 سے 10 ہزار جنگجو موجود تھے جو عراقی فورسز کا مقابلہ کرنے کے تعینات کیے گئے تھے۔
قومیتی تنوع نے کرکوک میں لڑائی کی متعدد صورتوں کو جنم دینے مین کردار ادا کیا۔ ان تنازعات میں عرب کرد ، ترکمان کرد اور سنی شیعہ کے علاوہ ترکمان کا کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ اور پیشمرگہ کا الحشد الشعبی کے ساتھ تنازع بھی شامل ہے۔ اعداد و شمار کی روشنی میں عراقی فوج 17 عسکری ڈویژن پر مشتمل ہے اور ہر ڈویژن کے چار بریگیڈز ہیں۔ یہ فورسز فضائیہ ، بحریہ اور زمینی فوج میں تقسیم ہیں۔ البتہ پیشمرگہ فورسز مجموعی طور پر 3.75 لاکھ جنگجوؤں پر مشتمل ہے۔ اس کے پاس فضائیہ نہیں ہے تاہم وہ نظریاتی فورس ہے جو لڑائی کا ایک طویل تجربہ رکھتی ہے۔
بغداد میں مرکزی حکومت کے کردار کے علاوہ عراقی کردستان پر ایران اور ترکی کے دباؤ نے کرکوک سے انخلاء کے عمل میں ایک بڑا کردار ادا کیا۔ بحران کے آغاز کے وقت سے ہی ایرانی قدس فورس کا کمانڈر قاسم سلیمانی اختلافات کے حل میں ثالثی بن کر بغداد اور کردستان کے چکر لگاتا رہا۔
دوسری جانب کرد ذرائع کے مطابق بحران میں اربیل کا کردار کمزور پڑنے کے بعد بغداد میں مرکزی حکومت کا رخ ایرانی ہدایت پر سلیمانیہ کی جانب ہو گیا۔ یہاں کردستان نیشنل یونین پارٹی اپنا رسوخ رکھتی ہے۔ متنازع علاقوں ، ریفرینڈم کے انجام اور عراقی حکومت میں کردوں کی شرکت سے متعلق بات چیت میں یونین پارٹی ہی مذاکرات کار کا کردار ادا کرے گی۔ مسعود بارزانی نے نینوی میں داعش تنظیم کے انخلاء کے بعد ہاتھ آنے والے 18 انتظامی یونٹوں کا کنٹرول کھو دیا ہے۔ یہ علاقے کرد ریاست کے نقشے میں شامل تھے مگر اب یہ پھر سے عراقی حکومت کی فورسز کے پاس آ گئے ہیں۔
امریکی وزارت دفاع کی ذیلی ایجنسی نے 19 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ امریکا پیشمرگہ فورسز کے دو پیدل اور دو آرٹلری بریگیڈز کی تیاری کے لیے 29.5 کروڑ ڈالر کا اسلحہ اور فوجی سامان فروخت کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان میں مسلح افواج کی کمیٹی نے 27 اپریل 2015 کو ایک دفاعی قانونی بل کے منصوبے کا انکشاف کیا تھا جس کے تحت داعش تنظیم کے خلاف لڑنے والی عراقی افواج کو 71.5 کروڑ کی امداد دی جانی تھی۔ اس کے علاوہ فرانس ، جرمنی ، ہسپانیہ اور کینیڈا نے بھی امریکا کے ساتھ پیشمرگہ فورسز کو ہتھیار فراہم کرنے میں حصہ لیا۔
کرد زبان میں "پیشمرہ گہ " کا معنی "فدائیان" ہے۔ یہ لوگ گزشتہ صدی میں 60ء کی دہائی کے آغاز میں نمودار ہوئے جب کردوں نے عراقی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے اور عراقی ایرانی ترکی سرحد کے تکون پر واقع پہاڑی سلسلے میں اپنے اڈے قائم کر لیے۔ جب 2005 میں عراقی کردستان نے وفاقی حکومت تشکیل دی تو پیشمرگہ کردستان کی حکومت میں ایک وزارت بن گئی جو کہ وزارت دفاع سے ملتی جلتی تھی۔ تاہم یہ ابھی تک غیر سرکاری طور پر دو حصوں میں تقسیم ہے۔
اس کا ایک اڈہ بارزانی کے زیر انتظام اربیل میں جب کہ دوسرا اڈہ طالبانی کے زیر انتظام سلیمانیہ میں ہے۔ وزارت پیشمرگہ کے انفارمیشن بیورو کے مطابق عراقی کردستان میں پیشمرگہ فورسز کے اہل کاروں کی تعداد 2.3 لاکھ ہے۔ عراق سے علاحدہ ہونے کی صورت میں کردستان کو ایک اور اقتصادی عسکری مشکل کا سامنا ہو سکتا ہے اور وہ ہے پیشمرگہ فورسز کے عناصر کی تنخواہ جو اس وقت بغداد کی وفاقی حکومت ادا کرتی ہے۔ صرف پیشمرگہ فورسز کی تنخواہ کی رقم ماہانہ 23 کروڑ ڈالر بنتی ہے یعنی سالانہ دو ارب 76 کروڑ ڈالر کے برابر۔ کردستان کی آزادی کے بعد ممکنہ طور پر پیشمرگہ فورس کردوں کے باہمی اختلاف کا بنیادی نقطہ بن سکتی ہے۔ پیشمرگہ فورس ابھی تک ٹینکوں اور طیاروں جیسے بھاری ہتھیار نہیں رکھتی ہے اور نہ ہی اس کے ایک پرچم تلے متحدہ ہونے کے حوالے سے کوئی اشارہ ملتا ہے۔
کردستان کو علاحدگی کے بعد وہ ہتھیار بھی نہیں ملیں گے جو وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے کہ بڑے ممالک نے پہلے ہی اس کی آزادی کو مسترد کر دیا ہے بالخصوص امریکا نے جہاں کانگریس میں ایسے قانون کی بازگشت سنائی دے رہی ہے جو عراق کی وفاقی حکومت میں شریک نہ ہونے کی صورت میں پیشمرگہ کو کسی بھی قسم کی امداد سے محروم کر دے گا۔
-
شمالی عراق میں 2 ترک فوجی اور کردستان ورکرز پارٹی کے 8 ارکان ہلاک
عراق کے شمال میں واقع علاقے زاب میں پیر کی رات کردستان ورکرز پارٹی کے مسلح عناصر ...
مشرق وسطی -
ترکی کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں عراق سے مکمل تعاون کو تیار
ترکی نے عراق میں کالعدم کرد جنگجو گروپ کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کے ...
مشرق وسطی -
عراق : پیشمرگہ کے انخلاء کے بعد سنجار شہر پر الحشد الشعبی کا کنٹرول
عراق میں شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی نے سنجار سے پیشمرگہ فورسز کے انخلاء کے بعد اس ...
مشرق وسطی