.

مںحرف سابق یمنی صدر علی صالح کو دورہ روس کی دعوت

کیا علی صالح بیرون ملک سفر کرسکیں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے سابق منحرف صدر علی عبداللہ صالح ایک بار پھر خبروں کی سرخیوں میں ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ روس کے ایک ادارے نے انہیں ماسکو کے دورے کی دعوت دی ہے جہاں وہ دہشت گردی اور یمن میں جاری جنگ کے بارے میں بات کریں گے۔

’العربیہ‘ کے مطابق علی صالح کا کہنا ہے کہ روس کے دورے کی دعوت قبول کرنے کا فیصلہ زیرغور ہے تاکہ ان کا بیرون ملک سفر کا دروازہ بند نہ کیا جاسکے۔

صنعاء کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ سابق صدر علی صالح روس کے دورے کے دعوت کی بات کر کے حوثیوں کا رد عمل معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آیا حوثی ان کے بیرون ملک سفر میں ان کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے علی صالح پر بیرون ملک سفر نہ کرنے کے لیے دباؤ رہا ہے اور ان کے بیرون ملک روانہ ہونے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ جب کہ علی صالح اپنی اور اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے بیرون ملک جانے کے خواہش مند ہیں۔

عالمی سطح پر یمن کے بحران کے پرامن حل کے لیے سامنے آنے والی تجاویز میں علی صالح کی بیرون ملک روانگی کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ اگر علی صالح ملک چھوڑ دیتے ہیں تو یمن کے بحران اور موجودہ خانہ جنگی کو تیزی کے ساتھ ختم کیا جاسکتا ہے۔