.

اسرائیل کا گولان کی جانب گولہ باری کے جواب میں شامی توپ خانے پر فضائی حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے شامی فوج کے توپ خانے پر ہفتے کے روز فضائی حملہ کیا ہے ۔اس نے اسرائیل کے مقبوضہ گولان کی چوٹیوں کی جانب گولہ باری کے جواب میں یہ حملہ کیا ہے اور یہ دھمکی دی ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے کسی واقعے کی صورت میں زیادہ شدت سے حملے کیے جائیں گے۔

اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی چوٹیوں کے دوسری جانب حد متارکہ جنگ کے صرف ایک تہائی حصے پر شامی فوج کا کنٹرول ہے جبکہ باقی علاقوں پر شامی باغیوں کا قبضہ ہے۔اس کے باوجود اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ وہ شامی فوج ہی کے ٹھکانوں کو اپنے جوابی حملوں میں نشانہ بنائے گی اور اسی کو ان حملوں کا ذمے دار گردانے گی۔

اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق شام میں شمالی گولان کے علاقے سے پانچ گولے فائر کیے گئے تھے اور ان میں سے چار اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے میں ہے لیکن ان سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔اسرائیلی فوج نے اس کے ردعمل میں شامی فوج کے توپ خانے کی تین توپوں کو نشانہ بنایا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے شام میں گذشتہ چھے سال سے جاری خانہ جنگی میں براہ راست ملوث ہونے سے گریز کیا ہے۔البتہ اس نے وہاں حزب اللہ کو جدید ہتھیاروں کی منتقلی روکنے کے نام پر ماضی میں متعدد فضائی حملے کیے تھے۔اس کے لڑاکا طیارے حزب اللہ کے جنگجوؤں یا ایرانی کمانڈروں پر حملے کرتے رہے ہیں ۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے گذشتہ سال ایک بیان میں شام میں ان فضائی حملوں کا اعتراف کیا تھا۔

شام اور اسرائیل ٹیکنیکل طور پر ایک دوسرے کے خلاف حالتِ جنگ میں ہیں اور صہیونی ریاست جنگ زدہ ملک میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر ونفوذ پر تشویش کا اظہار کرچکی ہے۔