.

کردستان ڈیموکریٹک پارٹی عراقی فوج کی پیش قدمی سے خائف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے صوبہ کردستان کے وزیراعلیٰ مسعود بارزانی کی جماعت ’کردستان ڈیموکریٹک پارٹی‘ عراقی فوج کی اربیل کی طرف پیش قدمی سے خائف دکھائی دیتی ہے۔ کل ہفتے کو ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ عراقی فوج کے دسیوں ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں جنوبی اربیل کے علاقوں طمطق اور کویسنجق کی طرف بڑھ رہی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کردوں کے مقرب ذرائع ابلاغ میں شائع کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سیاسی شعبے کے رکن محمد نظیف قادری کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عراقی فوج کے دسیوں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور دوسری فوجی گاڑیاں کردستان کی طرف پیش قدمی کررہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عراقی فوج کی بھاری نفری طمطق اور کویسنجق کے علاقوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔

قادری نے دعویٰ کیا کہ عراقی فوج کے ساتھ ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ عراقی فوج اور اس کی معاون ملیشیا جنوبی اربیل کے علاقے کویسنجق کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

کرد سیاسی رہ نما کا کہنا ہے کہ ہم اپنے علاقوں کا بھرپور دفاع کریں گے، کیونکہ یہ ہمارا فطری حق ہے۔

قبل ازیں ایک دوسرے کرد لیڈر معمار اوگلو نے کہا تھا کہ عراق کی وفاقی پولیس اربیل کے مرکز سے 25 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ تاہم انہوں نے توقع ظاہر کی کہ کرکوک کی انتظامی حدود پرانی حالت پر برقرار رکھی جائیں گی اور عرقی فوج اربیل کی طرف مزید پیش قدمی نہیں کرے گی۔

درایں اثناء عراقی حکومت کے ترجمان سعد الحدیثی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بغداد دستور کے مطابق کردستان کی صوبائی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کردستان کہ بیشمرگہ فورسز عراق کے قومی سیکیورٹی ڈھانچے کا حصہ ہے جو بغداد کے ماتحت کام کرنے کی پابند ہے۔

جمعہ کو یہ اطلاعات آئی تھیں کہ عاقی فوج کردستان کے صدر مقام اربیل سے صرف 50 کلو میٹر کی دوری پر پہنچ گئی ہے۔ اس پیش رفت پر علاقائی اور عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی اور عراقی جوائنٹ آپریشنل فورسز کے ڈپٹی چیف جنرل عبدالامیر یاراللہ کے اس بیان کو مشکوک قراردیا جا رہا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عراق کا کرکوک کے بعد مزید کسی علاقے پر فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں۔