عراقی کردستان : صدارتی انتخابات 8 ماہ کے لیے ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراقی کردستان کے پارلیمنٹ نے آئندہ ماہ مقررہ صدارتی انتخابات کو آٹھ ماہ کے لیے ملتوی کر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارلیمنٹ میں کردستان اسلامی اتحاد سے تعلق رکھنے والے رکن بہزاد زیباری نے منگل کے روز بتایا کہ "پارلیمنٹ نے آج ہونے والے اجلاس میں صدارتی انتخابات کو ملتوی کرنے کے علاوہ کردستان کی صدارتی اتھارٹی کی سرگرمیاں معطل کرنے کا بھی فیصلہ کیا"۔ یہ اتھارٹی کردستان کے صدر مسعود بارزانی ، ان کے نائب کوسرت رسول اور صدارتی دفتر کے سربراہ فواد حسین پر مشتمل ہے۔

ادھر کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن پارلیمنٹ فرست صوفی کا کہنا ہے کہ ایوان صدارتی انتخابات کے نئے شیڈول کا فیصلہ کرے گا۔

کردستان میں انتخابی کمیشن نے بدھ کے روز صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کا سبب بغداد میں مرکزی حکومت کی جانب سے کرکوک شہر سمیت متنازع علاقوں کے واپس لیے جانے کے بعد نامزد امیدواروں کی عدم دستیابی تھا۔

کردستان میں صدارتی انتخابات کا انعقاد یکم نومبر 2017 کو ہونا تھا۔

دوسری جانب عراقی کردستان میں متعدد جماعتوں نے منگل کے روز جاری ایک مشترکہ بیان میں کردستان کے صدر مسعود بارزانی کی برطرفی اور ایک عبوری حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔

مشترکہ بیان میں کرکوک ، طوزخورماتو ، خانقین اور دیگر متنازع علاقوں میں حالات پرسکون بنانے کے لیے ایک نقشہِ راہ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان جماعتوں نے کردستان کی سیادت اور کرد عوام کی یک جہتی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں