.

"نیوم" منصوبے کی کامیابی میں اہم ترین عنصر سعودی عوام ہیں : شہزادہ محمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزيز آل سعود کا کہنا ہے کہ "NEOM" منصوبے میں سعودی افرادی قوت مرکزی نمائندگی کی حامل ہو گی۔ اس منصوبے کے لیے مطلوب سرمایہ کاری کا حجم 500 ارب ڈالر ہے۔

سعودی ولی عہد نے یہ بات منگل کے روز ریاض میں "Future Investment Initiative" کے نام سے منعقد ہونے والی بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس کے پہلے روز ایک مذاکرے کے دوران کہی۔ تین روزہ کانفرنس میں 60 ممالک سے تعلق رکھنے والی 2500 شخصیات شریک ہیں۔ شہزادہ محمد کے مطابق عالمی تجارت کا 10% حصّہ بحرِ احمر کے راستے نئے اعلان کردہ منصوبے کے جائے وقوع کے نزدیک سے گزرتا ہے۔ یہ جگہ اطراف میں واقع دیگر علاقوں کی نسبت موسمی حرارت کے لحاظ سے دس درجہ زیادہ بہتر ہے۔

سعودی ولی عہد کے مطابق اس منصوبے کی کامیابی کے لیے تمام عوامل موجود ہیں۔ اس حوالے سے اہم ترین عنصر سعودی عوام کی خواہش اور عزم ہے۔

شہزادہ بن سلمان نے "نیوم" منصوبے کے محل وقوع کی تزویراتی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ ہوا کے ذریعے توانائی حاصل کرنے کے لیے مشرق وسطی میں بہترین مقام ہے۔ اس کے علاوہ یہاں وافر مقدار میں دھوپ بھی موجود ہے جس سے شمسی توانائی بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس مقام پر گیس کے وسائل کے علاوہ تقریبا 2 لاکھ بیرل تیل کی یومیہ پیداوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیوم کا مںصوبہ سرمایہ کاری کا "خواب" دیکھنے والوں کی آرزو کی تکمیل ثابت ہو گا۔ جو دنیا میں کچھ نیا تخلیق کرنے کا خواب دیکھتے ہیں اور اس مقام پر روایتی سرمایہ کاری کی کوئی گنجائش نہیں۔

سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ "دنیا میں کوئی بھی فریق نیوم جیسا منصوبہ نہیں بنا سکے گا۔ الّا یہ کہ نیوم کا منصوبہ مکمل طور پر تباہ ہو جائے اور اس کے بعد اس جیسا کوئی شہر قائم کیا جائے"۔

انہوں نے واضح کیا کہ نیوم کے منصوبے میں تفریح جیسے روایتی سیکٹر بھی شامل ہیں مگر ہم ان کو مختلف صورت میں پیش کریں گے۔ اس کے علاوہ بائیو ٹیک اور روبو ٹیک جیسے غیر روایتی منصوبے بھی ہوں گے"۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ "ہم دنیا بھر سے جدت طراز اور باصلاحیت ترین افراد کو جمع کریں گے تا کہ ایک مختلف چیز سامنے آئے۔ یہ شہر جدید ترین طرز کا ہو گا۔ مختصرا یہ کہا جا سکتا ہے کہ نیوم میں تخیلاتی مواقع ہوں گے اس لیے کہ ہم مستقبل میں جگہ بنانا چاہتے ہیں"۔

اس سے قبل منگل کی صبح ریاض میں خادم حرمین شریفین کی سرپرستی میں سرمایہ کاری سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس"Future Investment Initiative" کا آغاز ہوا جو عالمی سطح پر اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس ہے۔

اس کانفرنس کے مقاصد میں مملکت کے اندر قومی سطح پر تبدیلی کے منصوبے کی واضح حکمت عملی مرتب کرنا ہے اور اس کو سعودی ویژن 2030 کو یقینی بنانے کے لیے ایک بنیادی عامل قرار دیا جا رہا ہے۔

مذکورہ Future Investment Initiative سے متعلق سرمایہ کاری فنڈ کے تحت زیر انتظام آنے والے اثاثوں کی مجموعی مالیت کے حجم کا اندازہ 22 ٹریلیئن امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔