ہم ریفرینڈم کی منسوخی سے کم تر کسی چیز پر راضی نہیں ہوں گے: العبادی
عراقی وزیر اعظم حید العبادی نے کردستان کی جانب سے صوبے کی خود مختاری سے متعلق ریفرینڈم کے نتائج منجمد کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے اپنے پہلے موقف کا اعادہ کیا ہے کہ مذاکرات کے لئے ریفرینڈم کی ‘منسوخی’ پہلی شرط ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے انقرہ [ترکی] سے ایران آمد کے موقع پر دیا ہے۔ العبادی کے بہ قول ہم ریفرینڈم کی منسوخی اور ملکی دستور کی پاسداری سے کم تر کسی چیز پر راضی نہیں ہوں گے۔
بغداد اور اربیل کے درمیان کئی مہینوں سے کشیدگی چلی آ رہی ہے۔ اس کشیدگی کی وجہ کردستان کی عراق سے علاحدگی کے لئے کرایا جانا والا ریفرینڈم ہے۔ بدھ کے روز کردستان کی نیم خودمختار حکومت نے بغداد کو ریفرینڈم کا نتیجہ منجمد کرنے کی پیش کش کی تاکہ تناو کی صورتحال کم ہو سکے۔
وزیر اعظم کے میڈیا آفس کے ڈائریکٹر حیدر حمادہ نے فیس بک پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ ریفرینڈم منجمد کرنے کی بات کرتے ہیں۔ ہمارا ان سے مطالبہ ہے کہ ریفرینڈم قصہ پارینہ بن چکا اور حقیقت میں اس کی کوئی وقعت نہیں رہی۔