عراقی فورسز داعش کا دفاع تباہ کرنے کے بعد سرحدی شہر القائم پر حملے کو تیار
عراق کی مشترکہ آپریشنز فورسز نے شام کی سرحد کے نزدیک واقع شہر القائم کے نزدیک پہنچنے کا اعلان کیا ہے اور یہ بھی دعوی ٰ کیا ہے کہ انھوں نے داعش کی دفاعی قوت کو تباہ کردیا ہے۔
عراقی فورسز نے مغربی صوبے الانبار کے سرحدی علاقوں کی جانب داعش کے خلاف لڑائی میں تیز رفتاری سے پیش قدمی کی تصدیق کی ہے جبکہ داعش کے جنگجو دھماکا خیز مواد کے ذریعے مزاحمت کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان کے پاس اب خودکش بمبار یا بارود سے بھری کاروں کی کمک نہیں پہنچ رہی ہے۔
عراق کی مشترکہ آپریشنز کمان کے ایک کمانڈر کا کہنا ہے کہ وہ القائم کے سرحد ی علاقے سے چند کلومیٹر دور رہ گئے ہیں۔عراق میں اب یہی شہر اور اس کے نواحی علاقے داعش کا مضبوط گڑھ رہ گئے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری فورسز آیند ہ دو روز میں القائم میں عراقی پرچم لہرا سکتی ہیں ۔اس دوران وہ داعش کے محاصرہ زدہ علاقے راوہ پر بھی حملہ کریں گی۔اس کی بازیابی کے بعد وہ الانبار کے صحرا میں داعش کے بچے کھچے مگر منتشر جنگجو ؤں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں گی۔ داعش کے یہ جنگجو عراق کے دوسرے شہروں سے راہ فرار اختیار کرکے صحرا میں آچھپے ہیں۔
ان ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ خصوصی یونٹ القائم میں پھنسے ہوئے شہریوں کو نکال رہے ہیں اور یہ اطلاع بھی منظرعام پر آئی ہے کہ دہشت گرد تنظیم کے جنگجوؤں نے القائم میں قریباً چار ہزار شہریوں کا گھیراؤ کررکھا ہے اور انھیں محفوظ راستوں سے نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔