لبنان کے مستعفی وزیراعظم سعد الحریری کے قتل کی سازش کا کب پتا چلا؟
العربیہ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ لبنانی وزیراعظم سعد الحریری کے قتل کی سازش چند روز قبل بے نقاب ہوئی تھی اور اس کو تب ناکام بنا دیا گیا تھا۔
ان ذرائع نے بتایا ہے کہ سعد الحریری کے قتل کی سازش کرنے والوں نے واچ ٹاور کے نزدیک انھیں نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی اور جب ان کا قافلہ وہاں سے گزرا تھا تو انھوں نے واچ ٹاور ( کنٹرول ٹاور) کا نظام درہم برہم کردیا تھا۔
سعد حریری نے جمعہ کو سعودی عرب کا دورہ کیا تھا اور ہفتے کے روز اچانک اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔انھوں نے اپنی نشری تقریر میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور انھیں قتل کیا جاسکتا ہے۔
انھوں نے ایران اور اس کی اتحادی لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ انھوں نے لبنانیوں اور شامیوں کے خلاف حزب اللہ کے ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا اور اس کی مخالفت کی تھی۔
یادرہے کہ سعد حریری کے والد اور لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق الحریری کے قافلے کو فروری 2005ء میں بیروت میں ایک شاہراہ پر بم نصب کرکے نشانہ بنایا گیا تھا اور وہ اس تباہ کن بم دھماکے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ سعد حریری نے اپنی تقریر میں اس واقعے کا بھی ذکر کیا ہے۔
سعد الحریری نے کہا :’’ ہم ایک ایسے ماحول میں رہ رہے ہیں جیسا (ان کے والد اور سابق وزیراعظم ) شہید رفیق الحریری کے قتل کے وقت تھا۔میں نے یہ بُو محسوس کر لی ہے کہ میری زندگی کو نشانہ بنانے کے لیے خفیہ ساز ش کے تانے بانے بُنے جارہے ہیں‘‘۔
دریں اثناء لبنان کے سابق و زیراعظم میشیل سلیمان نے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم سعد حریری کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کے فیصلے پر سلام پیش کرتے ہیں۔انھوں نے الحدث چینل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ جمہوریہ کے صدر کے لیے اب ضرور ی ہے کہ وہ لبنان کو غیر جانبداری کی جانب لے جائیں۔
انھوں نے حزب اللہ کے لبنان میں کردار کے حوالے سے کہا ہے کہ ’’ کوئی بھی ریاست لبنان میں ایک اور ریاست نہیں بنا سکتی اور نہ یہاں دو فوجیں رکھی جا سکتی ہیں‘‘۔ انھوں نے پڑوسی ملک شام سے حزب اللہ کے انخلا اور ایک دفاعی حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔
سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’’ معاملات و مسائل کا حل لبنان کی خود مختاری کی قیمت پر تلاش نہیں کیا جانا چاہیے‘‘۔