تیزی سے اُبھرتی مصری خاتون گلوکار "مئی مصطفی" سے مِلیے
العربیہ نیوز چینل کے مقبول مارننگ شو "صباح العربیہ" میں منگل کے روز ایک تیزی سے ابھرتی مصری خاتون گلوکار مئی مصطفی سے بطور مہمان بات چیت کی گئی۔ مئی نے اپنے گانوں کا کوئی وڈیو کِلپ یا البم تیار کیے بغیر سوشل میڈیا کے ذریعے شہرت حاصل کی ہے۔
مئی مصطفی کے مطابق اُس نے عرب میوزک انسٹی ٹیوٹ میں ایک برس تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ اوپرا میں ڈاکٹر محمد عبدالستار کے ساتھ موسیقی اور گلوکاری کی سیکھی۔
مئی نے اپنا کوئی وڈیو کلپ یا البم تیار نہیں کیا۔ اُس نے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے براہ راست "آن لائن" گلوکاری کا مظاہرہ کر کے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی۔ مئی نے یوٹیوب پر اپنا ایک چینل بھی بنا رکھا ہے جس کے سبسکرائبرز کی تعداد 90 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
مئی مصطفی نے بتایا کہ اُس نے اپنا پہلا گانا 2007 میں یوٹیوب پر نشر کیا جس کو 5 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا۔ اس نے گزشتہ رمضان میں بھی "نمازِ فجر" سے متعلق ایک نغمہ نشر کیا جس کو دیکھنے والوں کی تعداد دُگنی ہو گئی اور وہ سوشل میڈیا پر بے پناہ مقبول ہوا۔
شامی خاتون گلوکار اصالہ کی آواز کے ساتھ مشابہت پر مئی مصطفی کا کہنا تھا کہ وہ اصالہ سے متاثر نہیں ہے تاہم آواز کی قوّت میں مشابہت سے اُسے مسرّت ہوتی ہے۔