.

یمن میں حوثیوں کا خفیہ ہتھیار "الزينبيات" کون ہیں؟ جانئے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی باغی اپنی حکومت کے مخالف شہریوں اور دیگر کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے ایران کے تجربے کو اختیار کر رہے ہیں۔ حوثیوں نے ملک میں "الزینبیات" کے نام سے خواتین کی ایک مسلح ملیشیا بنائی ہے۔ اس ملیشیا نے ستمبر 2014 میں صنعاء کا تختہ الٹے جانے سے قبل یمن کے شہر صعدہ میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا تھا۔

سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جانب سے حوثی ملیشیا کے ساتھ شراکت داری ختم کرنے کے اعلان کے بعد جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کے ارکان کی گرفتاری اور تعاقب میں اس ملیشیا کا سب سے بڑا کر دار رہا۔

اس سے قبل حوثی باغیوں کی جماعت خواتین کے لیے منعقد کیے جانے والے تربیتی پروگراموں کے بارے میں انکشاف کر چکی ہے۔ ان خواتین کو باغیوں کی حکومت میں نوجوانوں اور کھیلوں کے وزیر حسن زید کی سرپرستی میں بھاری آتشی ہتھیاروں کی تربیت فراہم کی گئی۔

سوشل میڈیا پر حوثی خواتین عناصر کے درمیان بات چیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض خواتین نے پستول کے استعمال کی بھی تربیت حاصل کی۔

الزینبیات ملیشیا کی مسلح خواتین ارکان عام لباس "برقع اور نقاب" پہنتی ہیں اور حوثی ملیشیا کے نعرے بھی بلند کرتی ہیں۔ الزینبیات ملیشیا کی ذمے داریوں میں گھروں کی تلاشی لینا، اُن پر دھاوے بولنا، موبائل اور الیکٹرانک آلات کی چھان بین کرنا، حوثیوں کی مخالف خواتین کارکنان کا تعاقب کرنا اور پُر امن ریلیوں اور دھرنوں پر حملہ کرنا شامل ہے۔

حوثی جماعت کی سیاسی کونسل کے سابق رکن علی البخیتی کے مطابق متعدد حوثی خواتین پر مشتمل گروپ نے ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران اُن پر لاٹھیوں سے حملہ کر دیا تھا۔ اس کارروائی میں 15 خواتین نے لکڑی کی لاٹھیوں اور اپنے ہاتھوں سے ضربیں لگائیں۔ البخیتی نے بتایا کہ الزینبیات کی ارکان نے اغوا اور لاپتہ صحافیوں کی ماؤں کی جانب سے کیے جانے والے ایک احتجاجی مظاہرے میں احتجاج کرنے والی خواتین کو زدوکوب کیا۔

یمنی فوج کے مطابق حوثی خواتین کے ایک یونٹ کا انکشاف ہوا جو الجوف صوبے میں آزاد کرائی جانے والی گورنریوں کے درمیان راستوں پر بارودی سرنگیں نصب کرنے کا ذمّے دار تھا۔ عسکری ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں دو خواتین کے ساتھ پوچھ گچھ جاری ہے تا کہ بارودی سرنگیں بچھانے والے یونٹوں سے تعلق رکھنے والے بقیہ سلیپنگ سیلز کو پکڑا جا سکے۔

ایسا نظر آ رہا ہے کہ الزینبیات ملیشیا آنے والے دنوں میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔ بالخصوص ایسے وقت میں جب کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں اور یمنی عوام کی جانب سے حوثیوں کے خلاف غم و غصے کے جذبات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔