.

یمن میں " پیپلز کانگریس" کے خلاف حوثیوں کی انتقامی کارروائیوں کی مذمّت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر اطلاعات معمّر الاریانی نے ایرانی نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے صنعاء اور باغیوں کے زیر قبضہ دیگر علاقوں میں جنرل پیپلز کانگریس کی قیادت اور حامیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی سخت مذمت کی ہے۔

حوثیوں کی انتقامی کارروائیوں میں ادھیڑ عمر ، بچوں اور خواتین کی تفریق کے بغیر شہریوں کے ہر طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے آخری کارستانیاں صحافیوں کو جیل بھیجنے کے عدالتی احکامات کے اجراء ، ان کے تعاقب ، گھروں پر دھاوے ، ذاتی اشیاء کی لوٹ مار اور خواتین اور بچوں کے اغوا کی حد تک پہنچ چکی ہیں۔

یمن کے عبوری دارالحکومت عدن میں گزشتہ چند روز کے دوران درجنوں سیاسی رہ نماؤں اور ان کے اہل خانہ کا استقبال کیا گیا۔

یمن کے صدر عبد ربّہ منصور ہادی نے اپنے طور پر ہدایت جاری کی ہے کہ حوثی ملیشیا کی کارستانیوں کے مارے ہوئے بے گھر افراد کو سپورٹ اور دیکھ بھال فراہم کی جائے۔

میڈیا رپورٹوں نے باغیوں کے ہاتھوں ہزاروں افراد کے متاثر ہونے کے علاوہ اغوا اور گرفتار ہونے کی تصدیق کی ہے۔

زمینی طور پر عسکری ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج نے حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ الحدیدہ بندرگاہ کے نزدیک دھماکا خیز مواد سے بھری ایک ایرانی کشتی پکڑی ہے۔

ادھر یمنی فوج کے ایک اعلان کے مطابق اس کی فورسز نے اِب اور الضالع صوبوں کے بیچ واقع ایک فوجی چیک پوسٹ پر حوثیوں کے سرغنے عبدالملک الحوثی کے ایک قریبی حوثی کمانڈر کو قیدی بنا لیا ہے۔