.

سعودی جج الجیرانی کو ایرانی مذہبی شخصیت کے فتوے پر قتل کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عربی روزنامے "الشرق الاوسط" نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب کے ضلعے قطیف میں ایک سال قبل دسمبر میں اغوا ہونے والے جج محمد الجیرانی کو 48 گھنٹوں بعد ہی ایک ایرانی مذہبی شخصیت کے فتوے کی بنیاد پر قتل کر دیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق قتل میں ملوّث گروپ نے الجیرانی کو اغوا کرنے کے بعد العوامیہ کے ایک غیر آباد فارم میں چھپا دیا۔ تاہم پھر اغوا کاروں کے لیے الجیرانی کو مزید وہاں روپوش رکھنا ممکن نہ رہا جس پر انہوں نے ایران میں ایک مذہبی شخصیت کی معاونت حاصل کی۔ اس کے نتیجے میں مذکورہ شخصیت نے الجیرانی کے قتل کا فتوی دے ڈالا اور اس کی براہ راست ہدایت پر عمل درامد کرتے ہوئے مغوی جج کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔

سعودی ضلعے قطیف کے محکمہ اوقاف کے شیعہ جج محمد الجیرانی کو دسمبر 2016 میں تاروت قصبے میں ان کے گھر کے سامنے سے اغوا کیا گیا۔ چند ہفتوں قبل سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران الجیرانی کی باقیات مل گئیں۔ کارروائی میں اس جُرم میں ملوّث ایک دہشت گرد ہلاک اور اس کا سوتیلا بھائی گرفتار ہو گیا۔