.

کُرد ملیشیا نے شامی فوج سے عفرین میں ترکی کے خلاف مدد مانگ لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں کردوں پر مشتمل عسکری گروپ ’کرد پروٹیکشن یونٹس‘ نے سرحدی علاقے عفرین میں ترکی کے خلاف صدر بشارالاسد سے باضابطہ طور پر مدد مانگ لی ہے۔

العربیہ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب کرد پروٹیکشن یونٹس نے باضابطہ طور پر بشارالاسد سے عفرین میں فوجی مدد مانگی ہے۔

ادھر ترکی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شام میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری ہے۔ ترک وزیراعظم بن علی یلدرم کا کہنا ہے کہ شام میں ’زیتون کی شاخ‘ آپریشن جاری رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے کئی سال سے ہمارے کرد، عرب اور ترکمان بھائیوں کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ انہیں ہر صورت میں شکست دی جائے گی۔

ترک وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم عفرین میں جنگ کے لیے نہیں بلکہ ظلم کے خاتمے کے لیے آئے ہیں۔ دہشت گرد گروپ کردستان ورکز پارٹی کئی سال سے ہمارے عرب، ترک اور ترکمان بھائیوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردوں کے ظلم سے مظلوموں کو ہر صورت میں نجات دلانا ہے۔

کرد ملیشیا کی طرف سے شامی حکومت سے مدد طلب کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں بھی اسدی فوج اور کردوں کے درمیان تعاون موجود رہا ہے۔ شامی فوج نے عفرین میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے بھی کرد ملیشیا کو سہولت فراہم کی۔

اس سے قبل شامی فوج نے ترکی کی سرحد سے متصل علاقے عفرین میں کردوں کی مقامی حکومت کے تحفظ کے لیے بارڈر فورس کی تعیناتی کا مطالبہ مسترد کردیا تھا۔