.

ہتھکڑی میں مسکراتی عہد تمیمی کے خلاف بند کمرے میں عدالتی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اپنے گھر میں دراندازی کے مرتکب اسرائیلی اہلکار کو تھپڑ مارنے کے الزام میں گرفتار 17 سالہ فلسطینی لڑکی عہد تمیمی کے خلاف اسرائیل کی فوجی عدالت میں مقدمہ کی باقاعدہ سماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کم سن فلسطینی مزاحمت کار عہد تمیمی کو آج منگل کو اسرائیل کی فوجی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت میں اس کی پیشی سے لگ رہا تھا کہ جیسے دنیا کا کوئی خطرناک شخص عدالت میں لایا گیا ہے۔ عہد تمیمی کے دونوں ہاتھوں کو ہتھکڑی لگا کر اسے کی کمر سے باندھ دیا گیا تھا اور پاؤں میں بھاری زنجیریں ڈالی گئی تھیں۔ اس موقع پر اسرائیلی پراسیکیوٹر اور عدلیہ سب کا رویہ ایک جیسا تھا۔

تکلیف دہ انداز میں عدالت میں پیشی کے باوجود کم سن عہد تمیمی کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ عدالت میں پیشی کے موقع پرعہد کے اہل خانہ، صحافیوں اور دیگر شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ جج نے تمام صحافیوں اور ملزمہ کے اہل خانہ کے سوا تمام افراد کو وہاں سے نکال دیا اور بند کمرہ میں اس کے کیس کی سماعت کی۔

کیس کی سماعت کے شروع میں جج اور وکلاء کے درمیان مقدمہ کھلی عدالت میں چلانے پر تکرار ہوا۔ اسرائیلی فوجی جج نے وکلاء کی طرف سے تمام تر دلائل کے باوجود بغیر کسی وجہ کے عہد تمیمی کے کیس کی سماعت بند کرنے میں کرنے کا فیصلہ کیا۔

جج اور دیگر عملے کے توہین آمیز سلوک کے باوجود عہد تمیمی نے اپنے والد، کزنز اور دیگر افراد خانہ سے سلام کیا۔ اس موقع پر سب نے اس کے ساتھ ہرممکن تعاون جاری رکھنے اور اس کی استقامت کی خواہش کا اظہار کیا۔

عدالت کے باہر سیکیورٹی کے سخت ترین اقدامات کیے گئے تھے، اسرائیلی فوج اور پولیس کی بھاری نفری نے عدالت کے اطراف میں رکاوٹیں کھڑی کر کے ہر طرح کی آمدو رفت روک دی تھی۔ کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں اور دیگرافراد کو نکالے جانے کے بعد مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی۔

اسرائیل ملٹری پراسیکیوٹر نےعہد تمیمی کے خلاف فوجیوں کی توہین کرنے اور ان کی سرکاری ڈیوٹی میں رخنہ اندازی الزام عاید کیا۔ اس کے علاوہ عہد کے خلاف عاید کردہ الزامات میں فوجی کو تھپڑمارنے، اس کی فوٹیج بنانے اور سوشل میڈیا پرپوسٹ کرنے، مزاحمتی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہرے منظم کرنے کے الزامات عاید کیے گئے۔ اس موقع پر عہد تمیمی نے اپنے رشتہ داروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب میں نے آپ سب لوگوں کو یہاں دیکھا تو مجھے ایسے لگا جیسے میں جیلروں اور جج سے زیادہ طاقت ور ہوں۔

خیال رہے کہ عہد تمیمی کو اسرائیلی فوج نے ایک ماہ قبل حراست میں لیا تھا۔ اس پر اپنے گھر میں گھسنے والے اسرائیلی فوجیوں کو تپھڑ مارنے کا الزام عایدکیا گیا تھا۔ عہد تمیمی کے علاوہ اسرائیلی جیلوں میں 18 سال سے کم عمر فلسطینی بچوں کی تعداد 300 سے زاید ہے۔