.

ترک فوج آج شامی شہر عفرین کا مکمل محاصرہ کرلے گی: صدر ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کی فوج شام کے شمالی شہر عفرین کا آج بدھ کی شام تک مکمل محاصرہ کر لے گی۔ترک ایوان صدر کے ایک ذریعے نے ان کی ایک تقریر کی وضاحت کی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ کرد اکثریتی آبادی والے اس شہر پر شام تک ترک فوج اور اس کے اتحادیوں کا قبضہ ہوجائے گا۔

اس صدارتی ذریعے نے میڈیا کے لیے جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ’’ صدر کی تقریر میں ایک جملے ’ مجھے امید ہے کہ عفرین کا شام تک مکمل سقوط ہوجائے گا‘اس کو یوں سمجھا جانا چاہیے کہ اس کا شام تک مکمل محاصرہ کر لیا جائے گا‘‘۔

رجب طیب ایردوآن نے قبل ازیں انقرہ میں صدارتی محل میں ایک تقریر میں کہا تھا کہ ترک فوج اور اس کے شامی اتحادیوں کا آج شام تک عفرین پر قبضہ ہوجائے گا لیکن ان کے اس دعوے کو شامی کردوں نے مسترد کردیا تھا اور انھوں نے کہا تھا کہ وہ دن میں سپنے دیکھ رہے تھے۔

ترک فوج او ر اس کے اتحادی جیش الحر کے جنگجو 20 جنوری سے شامی کرد ملیشیا پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی )کے خلاف ’’ شاخِ زیتون‘‘ کے نام سے جنگی آپریشن کرر ہے ہیں ۔اس کارروائی میں ترک فوج کے زمینی دستوں کے علاوہ فضائیہ بھی حصہ لے رہی ہے۔

شامی فوج اور اس کے اتحادی مشرق اور مغرب کی جانب سے عفرین کے مکمل محاصرے کے لیے پیش قدمی کررہے ہیں۔ترک صدر نے اپنی تقریر میں کہا کہ مشرق کی جانب سے دہشت گرد عفرین میں داخل ہونے اور وہاں سے باہر نکلنے کے لیے جو راستے استعمال کررہے ہیں، انھیں آج یا کل بند کردیا جائے گا۔

وہ قبل ازیں عفرین میں فتح کے بعد کرد ملیشیا کے زیر قبضہ دوسرے شہروں میں کارروائی کا عندیہ دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم منبج کو پاک کریں گے اور پھر اسی طرح دریائے فرات کے مشرقی کنارے کو عراق کی سرحد تک کرد جنگجوؤں سے پاک کریں گے۔وہ سرحد پار شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا بھی عندیہ دے چکے ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترک فوج اور اس کے اتحادی شامی باغیوں نے عفرین میں کرد ملیشیا کے خلاف اب تک کارروائی میں بہت سست رفتاری سے پیش قدمی کی ہے لیکن صدر طیب ایردوآن نے اس سست رفتار پیش قدمی کا دفاع کرتے ہوئے اس کا یہ جواز بیان کرتے ہیں کہ ترک فوجیوں اور عام شہریوں کی زندگیوں کو غیر ضروری طور پر داؤ پر نہیں لگایا گیا ہے۔

ترکی وائی پی جی کو ایک دہشت گردگروپ قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ کرد گروپ ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں مسلح بغاوت کرنے والے گروپ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کا اتحادی ہے اور دراصل یہ دونوں تنظیمیں ایک ہی ہیں۔

ترکی اور اس کے مغربی اتحادیوں نے پی کے کے کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے لیکن وائی پی جی ملیشیا شام میں امریکا کی قیادت میں اتحاد کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف جنگ میں شریک رہی ہے اور امریکا اس کا اپنا اتحادی قرار دیتا ہے۔امریکا اور یورپی لیڈر ترکی سے یہ مطالبہ کرچکے ہیں کہ وہ کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی میں ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرے۔