.

امریکا کو جوہری معاہدے میں باقی رکھنے کے لیے ایران کے خلاف یورپی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی ذرائع نے ایک دستاویز کا انکشاف کیا ہے جس میں ایران پر نئی پابندیاں شامل ہیں۔ نئی پابندیوں میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی ترقی اور شام میں جاری جنگ میں سرگرم ایرانیوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔

مذکورہ ذرائع کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد یہ ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے میں امریکا کی شمولیت کا سلسلہ جاری رہے۔

ایرانی جوہری معاہدے میں شریک یورپی ممالک امریکا کو معاہدہ برقرار رکھنے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے میں ترامیم کے لیے دی گئی مہلت پوری ہونے کا وقت بھی نزدیک آ رہا ہے۔ بصورت دیگر وہ معاہدے سے نکل جانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

تین یورپی ممالک برطانیہ ، فرانس اور جرمنی نے کوشش کی ہے کہ ایران پر نئی یورپی پابندیوں کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ سودے بازی کی جائے تا کہ اس کے مقابل ٹرمپ انتظامیہ اُس معاہدے سے نکلنے سے گریز کرے جس کو ٹرمپ بدترین سمجھوتہ قرار دے چکے ہیں۔

یورپی دستاویز کے مطابق نئی پابندیاں امریکا کی اس تشویش کو دور کریں گی جو اسے خطے میں ایرانی برتاؤ بالخصوص بیلسٹک میزائل پروگرام اور شام میں ایرانی مداخلت کے حوالے سے ہے۔

اس دستاویز کا انکشاف ایرانی جوہری معاہدے پر دستخط کرنے والے فریقوں کے درمیان ویانا میں منعقد بات چیت کے ساتھ ہوا۔ سفارتی اجلاس میں امریکی نمائندے برائن ہوک کا کہنا تھا کہ "ٹرمپ یورپی ممالک کے ساتھ ایک ضمنی معاہدہ چاہتے ہیں۔ اس معاہدے میں ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام، تہران کی علاقائی سرگرمیاں، 2020ء کے وسط میں جوہری معاہدے کی بعض شقوں کی مدت کا اختتام پذیر ہونا اور اقوام متحدہ کی جانب سے زیادہ سخت تفتیش اور معائنہ شامل ہونا چاہیے"۔