شام میں مسلح باغیوں اور یرغمالیوں کا انخلاء شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

شام کے حکومت مخالف باغی جنگجوؤں نے اتوار کو کئی ہفتوں کی ناکہ بندی کے بعد تباہ شدہ شامی شہر دوما سے نکلنا شروع کر دیا ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ باغیوں اور حکومت کے درمیان روس کی نگرانی میں طے پانے والے معاہدے کے تحت اس محصور شہر سے ہزاروں جنگجو باہر نکل جائیں گے۔

ایک بس میں درجنوں جنگجوؤں اور ان کے اہلِ خانہ کے ہمراہ شہر سے نکل کر شمالی شام کی طرف روانہ ہو گئے۔

اسی دوران سرکاری ٹیلی ویژن پر دوما میں باغیوں کی جانب سے یرغمال بنا کر رکھے جانے والے افراد کو ایک فوجی چوکی میں پہنچتے ہوئے دکھایا گیا جن کا سینکڑوں پرجوش رشتہ داروں نے استقبال کیا۔

یہ دونوں اقدامات روسی پشت پناہی میں ہونے والے ایک معاہدے کے بعد عمل میں آئے۔ اس کے تحت باغیوں کو دوما سے نکلنے کا راستہ فراہم کیا گیا ہے جب کہ اس کے بعد باغی تنظیم جیش الاسلام سینکڑوں یرغمالوں اور جنگی قیدیوں کو رہا کرے گی۔

روس کی فوجی پولیس اس معاہدے پر عمل درآمد کروائے گی۔

یہ معاہدہ شامی صدر بشار الاسد کی دسمبر 2016 کے بعد سے ایک بڑی فتح ہے جب باغیوں کو حلب سے نکال باہر کیا گیا تھا۔

تاہم اب بھی شمال مغربی اور جنوب مغربی شام میں باغیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں