عراق میں ایک انتخابی امیدوار کا نبوت کا جھوٹا دعویٰ
الیکشن جیتنے کے لیے مذہب کو استعمال کرنے کی بھونڈی کوشش
دنیا بھر میں پارلیمانی انتخابات کے موقع پر امیدوار اپنی جیت یقینی بنانے کے لیے رنگا رنگ نعروں پر مبنی مہمات چلاتے ہیں مگر عراق میں ایک انتخابی امیدوار نے تو تمام اخلاقی اور مذہبی حدود سے آگے بڑھ کر نبوت کا جھوٹا دعویٰ بھی کر ڈالا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ذی قار گورنری سے پارلیمانی انتخابات کے امیدوار یاسر ناصر حسین نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اللہ کا نبی ہے اور اللہ نے اسے امت کی قیادت کی ذمہ داری سونپی ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جھوٹے مدعی نبوت نے اپنے حلقے میں بڑی تعداد میں ایسے متنازع دعوے پر مبنی پوسٹر اور بینرز لگائے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ نبی ہے اور امت کی قیادت اس کی ذمہ داری میں شامل ہے۔
متنازع پوسٹر سامنے آنے کے بعد لبنان کے سیکیورٹی حکام نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
ذی قار گورنری میں الیکشن کمیشن کے مقامی عہدیدار رافد الزیدی نے یاسر ناصر حسین کی طرف سے انتخابات کے لیے نبوت کا دعویٰ کرنے کی اطلاعات سے لاعلمی کا اظہار کیاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو سیکیورٹی حکام کی طرف سے ایسی کوئی شکایت نہیں ملی اورنہ انتخابی امیدوار ناصر حسین کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے ہیں۔
عراق کے سیاسی تجزیہ نگار حسین الحسناوی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک قانون کسی بھی شہری کو پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کا ھق دیتا ہے۔ عراق کے جمہوری دستور اور سیاسی نظام میں کسی امیدوار پر بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے کوئی قدغن نہیں لگائی جاتی۔
خیال رہے کہ عراق میں پارلیمانی انتخابات کے لیے 12 مئی کا اعلان کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کے انتخابات کے لیے 6000 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔