.

یمن میں حوثیوں کے بیچ اختلافات اور تنازعات کی خلیج گہری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں باغی حوثی ملیشیا کے مختلف دھڑوں کے بیچ اندرونی اختلافات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ دھڑے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں اثر و رسوخ اور لوٹ مار کے واسطے آپس میں دست و گریباں ہیں۔

اس سلسلے میں یمنی ذرائع نے پیر کے روز انکشاف کیا ہے کہ باغیوں کی نام نہاد سپریم سیاسی کونسل کے مقتول سربراہ اور حوثی رہ نما صالح الصماد کے دھڑے سے تعلق رکھنے والے سینئر رہ نماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جب کہ دیگر متعدد کو نظر بند کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مذکورہ دھڑے کی چیدہ شخصیات کو دیگر متخاصم دھڑوں کے مفاد میں منظر نامے سے ہٹانا ہے۔ یاد رہے کہ صالح الصماد الحدیدہ شہر میں عرب اتحادی طیاروں کے فضائی حملوں میں مارا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق حوثی رہ نما ابو علی الحاکم جس کو اقوام متحدہ کی پابندیوں کا سامنا ہے اور وہ عرب اتحاد کو مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں بھی شامل ہے، اس نے الصماد کے ایک منظورِ نظر کمانڈر یحیی محمد المہدی کو گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں المہدی کو ملک کے انتہائی شمال میں واقع حوثیوں کے گڑھ صعدہ منتقل کر کے اُن مساجد میں سے ایک مسجد میں زیر حراست رکھا گیا ہے جن کو حوثیوں نے جیلوں میں تبدیل کر دیا۔

ذرائع کے کہنا ہے کہ "الصماد" دھڑے سے تعلق رکھنے والے رہ نماؤں کو گرفتاری، تعاقب، نظربندی اور ان کے منصوبوں سے علاحدگی کے ذریعے راستے سے ہٹایا جا رہا ہے۔

حوثیوں کے قریبی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ باغیوں کے 4 مختلف دھڑوں کے بیچ تنازع بڑھتا جا رہا ہے اور ہر دھڑا دوسرے سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ان میں تازہ ترین دھڑے کی قیادت حوثیوں کے سرغنے عبدالملک الحوثی کا داماد مہدی المشاط کر رہا ہے۔ المشاط کو الصماد کی ہلاکت کے بعد سیاسی کونسل کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس سے قبل المشاط باغیوں کی انقلابی کونسل کے سربراہ محمد علی الحوثی کے دھڑے میں شامل تھا جو حوثیوں کے سرغنے کا چچا زاد بھائی بھی ہے۔ بقیہ دو دھڑوں کی قیادت صنعاء کے حقیقی حاکم عبدالكريم الحوثی (حوثیوں کے سرغنے کا چچا) اور عبدالخالق الحوثی (حوثیوں کے سرغنے کا بھائی) کے ہاتھوں میں ہے۔