شام کے علاقے تل رفعت سے ایرانی مشیران کا انخلاء : رپورٹ
شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ حلب کے شمالی نواحی علاقے تل رفعت میں موجود ایرانی عسکری مشیر وہاں سے نکل کر نبل اور الزہراء کے قصبوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔
شام میں حمیمیم کے روسی اڈے کی جانب سے فیس بک پر اعلان کیا گیا کہ "طے پائے جانے والے معاہدے کے متن میں یہ بات واضح طور پر ہے کہ علاقے میں بشار الاسد کی معاونت کے لیے موجود ایرانی فورسز وہاں سے نکل کر ملک کی جنوبی سرحد سے دُور چلی جائیں گی"۔ اعلان کے مطابق توقع ہے کہ اس پر چند روز کے دوران عمل درامد ہو جائے گا۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری علی شمخانی نے ہفتےکے روز ایک بیان میں جنوبی شام میں ایرانی عسکری مشیروں کی موجودگی کی تردید کی تھی۔ شمخانی کے مطابق ایرانی مشیران شامی حکومت کی سپورٹ کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور اُن کا ملک اردن کے مقابل شام کے علاقوں سے "دہشت گردوں" کو نکالنے کے لیے روس کی کوششوں کی بھرپور سپورٹ کرتا ہے۔ ایرانی عہدے دار نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ شام میں ایرانی مشیروں کی ہلاکت میں اس کا براہ راست کردار ہے۔
دوسری جانب شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے جنوبی شام کے حوالے سے کسی بھی معاہدے کی تردید کی ہے۔ المعلم کے مطابق عراقی اردن سرحد کے نزدیک شام کے علاقے التنف سے امریکی فورسز کے انخلاء سے قبل ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔
شامی وزیر خارجہ نے ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جنوبی شام میں ایرانی عسکری وجود کی کہانی اسرائیل کی پھیلائی ہوئی ہے کیوں کہ کہ وہ وہاں دہشت گرد گروپوں پر مشتمل سکیورٹی بیلٹ تشکیل دینے میں ناکام رہا۔ المعلم نے اس امر کی بھی تردید کی کہ ان کے ملک میں مشاورتی کردار سے بڑھ کر ایران کا کوئی عسکری وجود ہے۔
المعلم نے واضح کیا کہ ترکی ، امریکی اور فرانسیسی وجود کے برعکس ایرانی مشیران بشار حکومت کی دعوت پر شام میں موجود ہیں۔