یورینیم اور میزائلوں کے ذریعے خامنہ ای جنگ کی راہ ہموار کر رہے ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں متعدد تجزیہ کاروں نے رہبر اعلی علی خامنہ ای کے حالیہ بیان کو ایک ممکنہ جنگ کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔ خامنہ ای نے پیر کے روز اپنے بیان میں یورینیم کی افزودگی شروع کرنے اور میزائل صلاحیت کو مضبوط بنانے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

انقلاب کے بعد ایرانی جمہوریہ کے پہلے صدر ابو الحسن بنی صدر (جن کو اُن کے عہدے سے معزول کر دیا گیا تھا) کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کا بیان ان کی ناکامی کی دلالت ہے کیوں کہ وہ "کوئی حل تلاش کرنے کے بجائے بحران کو اور سنگین بنا رہے ہیں"۔ بنی صدر نے اپنی ٹوئیٹ میں مزید کہا کہ "اسرائیل کو مٹا دینے" کے حوالے سے رہبر اعلی کا بیان درحقیقت عوام کے انجام کے ساتھ کھلواڑ ہے یہاں تک کہ وہ خود اپنے انجام کو بھی نہیں دیکھ رہے"۔

دوسری جانب تہران یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر صادق زیبا کلام کے مطابق خامنہ ای کا بیان جوہری معاہدے اور اس کو بچانے کی یورپی کوششوں پر آخری وار کے مترادف ہے۔ اپنی ٹوئیٹ میں زیبا کلام کا کہنا تھا کہ یہ بیان عالمی برادری کے ساتھ "روحانی کے اعتدال" کے مرحلے کا اختتام اور ایک نئے سخت گیر دور کا آغاز شمار ہو گا جیسا کہ احمدی نجاد کا دور تھا۔

خامنہ ای نے پیر کے روز سرکاری ٹیلی وژن پر نشر کیے جانے والے خطاب میں ہدایات جاری کی تھیں کہ یورینیم کی افزودگی کی تیاری کے سلسلے میں منگل کے روز سے سینٹری فیوجز کی تعداد 1.9 لاکھ یونٹوں تک پہنچائی جائے۔ خامنہ ای نے دھمکی بھی دی کہ اگر دشمنوں کی جانب سے حملے کا نشانہ بنایا گیا تو ان کا ملک "بھرپور طاقت کے ساتھ" جواب دے گا۔ ایرانی مرشد نے خطے کے ممالک میں مداخلت کا سلسلہ جاری رکھنے کو باور کراتے ہوئے کہا کہ "ہم ظلم و ستم کے شکار ممالک کی سپورٹ جاری رکھیں گے"۔

دوسری جانب ایران کے نائب صدر علی اکبر صالحی نے منگل کے روز ایک اعلان میں بتایا کہ اُن کے ملک نے پیر کے روز ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کو آگاہ کر دیا ہے کہ تہران سینٹری فیوجز کی تعداد میں اضافہ کر کے یورینیم افزودہ کرنے کی اپنی صلاحیت کو بڑھائے گا۔

ایران نے جوہری معاہدے کے تحت اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ 3.67% تک یورینیم کی افزودگی عمل میں لائے گا جو ہتھیاروں کی تیاری کے لیے مطلوب 90% کی دہلیز سے بہت کم ہے۔ اس کے مقابل تہران کو پابندیوں سے چھوٹ حاصل ہوئی۔

جوہری معاہدے سے قبل ایران 20% کی شرح سے یورینیم افزودہ کر رہا تھا۔ جوہری معاہدہ ختم ہونے کی صورت میں اس بات کا خطرہ ہے کہ ایران دوبارہ سے اسی سطح پر واپس آ جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں