.

سعودی ’ایلیٹ فورس‘ قومی سلامتی کے لیے مملکت کا فولادی ہاتھ: تصاویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں آج سے 50 سال پیشتر مملکت بھر میں قائم پولیس مراکز میں ایک نئی یونٹ شامل کی گئی۔ اسے ایمرجنسی یونٹ کا نام دیا گیا مگر بعد ازاں وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرنے والی اس یونٹ کا نام تبدیل کرتے ہوئے 1397اسے ’ایلیٹ ایمرجنسی فورس‘ کا نام دیا گیا۔

سنہ 1438ھ یعنی ایک سال پیشتر سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے ’اسٹیٹ سیکیورٹی پریزڈنسی‘ کا شعبہ قائم کیا اور اس ایمرجنسی ایلیٹ فورس کو اس کے ایک فولادی بازو کے طورپر ضم کیا گیاْ

سعودی عرب کی اسپیشل فورس کے ڈائریکٹر تعلقات عامہ بریگیڈیئر فارس بن منصور المالک نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئےکہا کہ ایلیٹ فورس بلند ہمتی اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں کماحقہ ادا کررہی ہے۔ ملک میں امن وامان کا قیام ہو یا یرغمالیوں کی بازیابی ہو،دہشت گردی اور تخریب کاری ہو یا شہریوں کی جان ومال کو خطرے میں ڈالنے کی کوئی سازش ہو، حج اور عمرہ کے سیزن ہوں یا کوئی دوسری مہم ہو ایمرجنسی ایلیٹ فورس ہمیشہ ہراول دستے کے طور پر پیش پیش رہتی ہے۔

حج اور عمرہ کا سیزن

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بریگیڈیئر فارس بن منصور نے کہا کہ حج اور عمرہ کے موسموں میں مکہ معظمہ بالخصوص حرم کے اندر امن وامان کو برقرار رکھنے، کسی ہنگامی صورت حال سے فوری نمنٹے، حجاج اور معتمرین کی مدد کرنے، حجاج کے قافلوں کا استقبال کرنے اور انہیں سیکیورٹی سمیت تمام ضروری سہولیات مہیا کرنے میں بھی ایلیٹ فورس اپنا بھرپور کردار ادا کرتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں سعودی عرب کی ایمرجنسی ایلیٹ فورس کی حرم میں حج اور عمرہ کے سیزنوں میں خدمات اور دیگر مہمات کی تصاویر بھی حاصل کی ہیں۔ ایلیٹ فورس کے ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ حج اور عمرہ کے سیزن میں ملک میں بھکاریوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور ہمای زمہ داریوں میں حجاج ومعتمرین کو ان بھکاریوں سے تحفظ دلانا بھی شامل ہے۔

دہشت گردی سے نمٹنے کی تربیت

بریگیڈیئر المالک نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایلیٹ فورس کے اہلکاروں کو عالمی معیارکی دہشت گردی سے نمٹنے کی اعلی پیمانے کی تربیت دی جاتی ہے۔

ایلیٹ فورس کے اہلکاروں اور جان بازوں کو سخت سے سخت ماحول میں دہشت گردوں سے نمٹنے، ان کےٹھکانوں کا پتا چلانے اور دہشت گردوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی تربیت دی جاتی ہے اور اس کے ساتھ اہلکاروں میں وطن سے محبت کا جذبہ پیدا کیا جاتا ہے تاکہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں وہ زیادہ عزم،بہادری اور جان نثاری کامظاہرہ کریں۔