.

ایرانی نظام کی پالیسیاں ہی اسے لے ڈوبیں گی: فائزہ رفسنجانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کی بیٹی فائزہ ہاشمی رفسنجانی کا کہنا ہے کہ ایرانی نظام کی پالیسیاں اسے لے ڈوبیں گی۔ انہوں نے شام اور یمن میں ایران کی مسلسل مداخلت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ہفتے کے روز ایک افطار عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے فائزہ کا کہنا تھا کہ "حالیہ مسائل جوہری معاہدے کا نتیجہ نہیں بلکہ ہماری خارجہ پالیسی کے سبب ہیں جس میں شام اور یمن میں مداخلت کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات ، بائیکاٹ اور دوسرے ممالک کے ساتھ عداوت شامل ہے"۔

اصلاح پسند گروپ کی ہمنوا سرگرم کارکن فائزہ کے مطابق جنوری کے اواخر میں ملک میں ہونے والے احتاجاجی مظاہرے اس بات کی علامت ہیں کہ لوگ موجودہ حالات سے مطمئن نہیں۔

فائزہ رفسنجانی کا کہنا تھا کہ ملک میں اپنائی گئی حالیہ پالیسیاں نظام کو سقوط تک پہنچا دیں گی۔ انہوں نے خارجہ پالیسی کو خاص طور پر شام اور یمن میں "ناکام" قرار دیا۔

فائزہ نے ایرانی نظام کی "قانونی حیثیت" کے حوالے سے ایک آزادانہ عوامی ریفرینڈم کروانے کا مطالبہ کیا جو ہر قسم کے دباؤ سے دور ہو۔ انہوں نے باور کرایا کہ یہ ریفرینڈم کوئی عجیب سے بات نہیں، ایسے کئی ممالک ہیں جہاں اپنی پالیسی کا جائزہ لینے کے لیے عوامی ریفرینڈم کروائے جاتے ہیں۔

سابق صدر کی بیٹی نے ایرانی نظام سے مطالبہ کیا کہ وہ دیگر ممالک کے ساتھ دشمنی کا سلسلہ ختم کر دے۔ انہوں نے کہا کہ ایران دنیا کی نظر میں اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اعتبار کھو چکا ہے"۔