.

یونان : فوجی انقلاب کا مطالبہ کرنے والا دائیں بازو کا رکن پارلیمنٹ گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یونان میں عدلیہ اور سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ حکام نے جمعے کے روز Golden Dawn سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے دائیں بازو کے ایک شدّت پسند رکن پارلیمنٹ کو گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاری مذکورہ رکن پارلیمنٹ کی جانب سے فوجی انقلاب کے مطالبے کے بعد عمل میں آئی۔ استغاثہ نے اس امر میں تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ آیا رکن پارلیمنٹ کا بیان غداری کی سطح تک پہنچا ہوا ہے یا نہیں۔

واضح رہے کہ Konstantinos Barbarousis حزب اختلاف کی جانب سے بائیں بازو کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تجویز کے سلسلے میں ہونے والے مباحثے میں شریک تھے۔ عدم اعتماد کی تجویز یونان کی حکومت کی جانب سے مقدونیا کے ساتھ اُس کے نام کے حوالے سے طے پائے جانے والے ایک تاریخی معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے۔

معاہدے پر 17 جون کو دستخط ہوں گے جس کے مطابق یوگوسلاویہ کی سابقہ ریاست کا نام "جمہوریہ شمالی مقدونیہ" ہو گا۔

رکن پارلیمنٹ بابیروسِس نے اپنے گرما گرم بیان میں کہا تھا کہ "یونان کے حصّے بخرے ہونے کا آغاز ہو گیا ہے"۔ اس بیان نے پارلیمنٹ میں شدید غصّے کی لہر دوڑا دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ملک کی سیاسی قیادت ریاست کے مفادات کے لیے نہیں بلکہ یقینا اپنے ذاتی مفادات کے واسطے کام کر رہی ہے۔ لہذا میں ملک میں عسکری قیادت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے حلف کا احترام کرتے ہوئے غدّاری سے اجتناب کے واسطے ملک کے وزیراعظم، وزیر دفاع اور صدر کو گرفتار کر لے"۔

گولڈن ڈان پارٹی نے باربیروسس کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے نکال دیا ہے۔

یونان کی پارلیمنٹ نے مقدونیا کے ساتھ تاریخی معاہدے کے حوالے سے جاری بحث میں گولڈن ڈان پارٹی کو شریک ہونے سے روک دینے کا فیصلہ کیا ہے۔