شامی فوج کا درعا کے دیہی علاقوں کا محاصرہ، ہزاروں افراد کی نقل مکانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں بشار الاسد کی فوج نے پیر کی شب ملک کے جنوب میں نمایاں پیش قدمی کرتے ہوئے دو قصبوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس کے نتیجے میں وہ درعا صوبے کے مشرق میں شامی اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقوں کو دو حصوں میں تقسیم کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد السوری کے مطابق شامی فوج اور اس کی ہمنوا فورسز نے درعا کے دیہی علاقے کے مشرقی حصّے میں واقع تزویراتی نوعیت کے دو قصبوں بصر الحریر اور ملیحۃ العطش پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔

یاد رہے کہ شام کا جنوبی مغربی حصّہ اردن کے ساتھ سرحد اور مقبوضہ گولان کے پہاڑی علاقے کے نزدیک ہونے کے سبب تزویراتی حساسیت کا حامل ہے۔

امریکا اور بشار کے طاقت ور ترین حلیف روس کے درمیان گزشتہ برس یہاں "سیف زون" کے قیام پر اتفاق رائے ہو گیا تھا جس نے علاقے میں پرتشدد کارروائیوں کو قابو کرنے میں مدد دی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے شام کے جنوب میں شہریوں پر جارحیت کے اثرات سے خبردار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے زیر انتظام انسانی امور کی رابطہ کاری کے دفتر کے مطابق درعا میں تنازع کے علاقوں سے کم از کم 45 ہزار افراد اردن کی جانب کوچ کر چکے ہیں۔ دفتر کی ترجمان لِنڈا ٹوم نے منگل کے روز کہا کہ پرتشدد کارروائیوں، بم باری اور لڑائی کے جاری رہنے کے سبب گزشتہ دنوں کے دوران لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو نقل مکانی کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں