.

بشار حکومت کی شامی اپوزیشن کے روس کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں روس کی حمایت یافتہ بشار حکومت کی فوج نے اردن کے ساتھ درعا کی مکمل سرحد پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

شامی اپوزیشن کے ذریعے کے مطابق شامی حکومت کی فوج اور اس کی حلیف فورسز نے درعا شہر کے اندر اپوزیشن کی فورسز کا محاصرہ کر لیا ہے اور وہ شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔

پانچ سال میں یہ پہلا موقع ہے جب شامی حکومت کی فوج نے اردن کے ساتھ درعا کی پوری سرحد پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ پیش رفت مسلح گروپوں کے ساتھ فائر بندی کے معاہدے کے اعلان کے باوجود سامنے آئی ہے۔ مذکورہ معاہدہ روس کی وساطت اور یقین دہانی کے ذریعے طے پایا تھا۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد السوری کے مطابق درعا کے مغربی دیہی علاقے میں شامی فوج کے یونٹ مغرب میں فضائی اڈّے سے لے کر مشرق میں شہاب قصبے تک پوری سرحدی پٹی پر پھیل گئے۔

شامی اپوزیشن کے مطابق بشار کی فوج اور اس کے حلیفوں نے درعا کے مغربی حصّے میں اپوزیشن کے مسلح ارکان کے عالقے کو محاصرے میں لے لیا ہے اور اب وہ پورے شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کے قریب آ رہے ہیں۔

اپوزیشن گروپوں نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے انہیں دھوکہ دیا اور جمعے کے روز دستخط کیے گئے معاہدے پر عمل درامد نہیں کیا۔ اپوزیشن نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اس نے معاہدہ طے پانے کے بعد کئی علاقوں اور بھاری ہتھیاروں کو حوالے کر دیا تاہم شامی حکومت اور روس طاقت کی پالیسی پر عمل پیرا رہے۔

اپوزیشن ذرائع کے مطابق سمجھوتے سے قبل حملوں اور شدید بم باری کا دباؤ ڈال کر کئی علاقوں اور قصبوں کو شامی حکومت کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور کیا گیا۔

دوسری جانب روس نے خود کے معاہدے پر کاربند رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ معاہدے سے انکار کرنے والے اپوزیشن عناصر کو اِدلب منتقل ہونے کی اجازت دے گا۔ علاوہ ازیں بعض علاقوں میں مقامی کمیٹیوں کی تشکیل اور روسی فوجی پولیس کے تعینات کیے جانے کی نگرانی کرے گا۔

ادھر مسلح اپوزیشن عناصر نے جمعے کے روز طے پانے والے معاہدے پر عمل درامد کو یقینی بنانے کے لیے روس کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کا اشارہ دیا ہے۔

المرصد کے مطابق شام کے جنوبی علاقوں میں ہزاروں شہریوں نے بشار کی فوج کے حملوں کے خوف سے نقل مکانی کر لی ہے۔ اگرچہ معاہدے کے نتیجے میں اپوزیشن جنگجوؤں کے زیر کنٹرول علاقوں پر شدید بم باری کا سلسلہ اختتام پذیر ہو گیا تاہم شہریوں نے اس اندیشے کے تحت نقل مکانی کر لی کہ وہ بم باری کی کسی نئی کارروائی کا نشانہ بن جائیں۔